نیویارک/سنگاپور: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی خبروں اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکدم نیچے گر گئیں۔ برینٹ اور امریکی خام تیل (WTI) کی قیمتوں میں 11 فیصد تک کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
گزشتہ چند روز سے برینٹ خام تیل 95 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا، تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اعلان کے فوراً بعد برینٹ خام تیل11 فیصد کمی کے بعد 88.70 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل (WTI)11 فیصد کمی کے ساتھ 81.20 ڈالر پر آ گیا۔
تیل کی قیمتوں میں کمی اور سفارتی تناؤ میں بہتری کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ہریالی لوٹ آئی ہے۔ امریکی اسٹاک فیوچرز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ڈاؤ جونز فیوچرز: 560 پوائنٹس کا اضافہ۔S&P 500 اور نیسڈیک مثبت رجحان کے ساتھ اوپر گئے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی اور ایران-امریکہ متوقع سیز فائر نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے، کا کھلنا عالمی مہنگائی میں کمی اور سپلائی چین کی بحالی کے لیے کلیدی ثابت ہوگا۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو پاکستان سمیت دیگر درآمدی ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان پیدا ہو جائے گا۔
