واشنگٹن / ہواوانا: امریکا اور کیوبا کے درمیان دیرینہ سفارتی کشیدگی میں اس وقت شدید اضافہ ہو گیا جب امریکی انتظامیہ نے کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل، ان کی اہلیہ اور متعدد اہم ترین شخصیات پر نئی سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔
امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، پابندیوں کی اس نئی فہرست میں کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو کے بیٹے اور پوتے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایک انتہائی اہم اقدام کے تحت امریکا نے کیوبا کی مسلح افواج کی وزارت (Ministry of the Revolutionary Armed Forces) کو بھی بلیک لسٹ کرتے ہوئے اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پابندیوں کے بعد اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ “کیوبا ایک خوبصورت ملک ہے، تاہم وہاں کی موجودہ حکومت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔” صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کیوبا کی اندرونی اور سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
تاہم، اپنی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی حکومت کی اولین ترجیح ایران سے متعلق معاملات کو حل کرنا ہے۔ ایران کے مسئلے سے نمٹنے کے بعد کیوبا کے حوالے سے حتمی اور مزید سخت اقدامات پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔
کیوبا کی حکومت کی جانب سے فی الحال ان نئی امریکی پابندیوں اور صدر ٹرمپ کے جارحانہ بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ یا تند و تیز ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی اور سفارتی تنازعات مزید سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
