لاہور: دنیا بھر کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں سے لے کر صفِ اول کی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک، ریاستہائے متحدہ امریکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (Artificial Intelligence) کے مستقبل کو سنوارنے، جدت طرازی کو فروغ دینے، اور معاشی ترقی میں مسلسل دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں لاہور میں مقیم پاکستانی طلبہ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم تعلیمی سیشن کا انعقاد کیا گیا ہے۔
امریکی قونصلیٹ کے پبلک افیئرز آفیسر (Public Affairs Officer) سندیپ پال نے ‘ایجوکیشن یو ایس اے’ (EducationUSA) لاہور کے پلیٹ فارم سے ایک نئی فکری سیریز “EdTalks with EdUSA” کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ اس نئی سیریز کا پہلا مباحثہ “مصنوعی ذہانت کا استعمال: جدت، مقابلہ اور قیادت کا مستقبل” (Harnessing Artificial Intelligence: Innovation, Competition, and the Future of Leadership) کے موضوع پر منعقد ہوا۔
اس خصوصی سیشن میں لاہور بھر سے ‘اسٹیم’ (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھس) کے باصلاحیت طلبہ نے شرکت کی۔ سیشن کے دوران اس بات پر گہرائی سے غور کیا گیا کہ کس طرح اے آئی (AI) ٹیکنالوجی دنیا بھر کی صنعتوں کو تبدیل کر رہی ہے، معیشتوں کو مضبوط بنا رہی ہے اور پیداواری صلاحیت کو بڑھا کر نئی نسل کے رہنماؤں اور موجدین کے لیے مواقع پیدا کر رہی ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکی فضیلت اور مہارت کی بدولت، امریکہ عالمی سطح پر جدید ترین اے آئی سلوشنز تیار کرنے میں سب سے آگے ہے۔ اس قسم کے پروگرامز کا مقصد مستقبل کے رہنماؤں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے چلنے والی اس جدید دنیا میں مسابقت کے لیے تیار ہو سکیں اور کامیابی حاصل کر سکیں۔
