US and Iran Downplay Chances of Immediate Peace Deal After Three Months of Conflict

مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن یا تو ایک "اچھا معاہدہ" حاصل کرے گا یا پھر تہران سے "کسی اور طریقے" سے نمٹا جائے گ

Editor News

نیو دہلی/تہران (ویب ڈیسک): امریکہ اور ایران نے تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی فوری معاہدے یا بڑی کامیابی کی امیدوں کو کم کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن یا تو ایک “اچھا معاہدہ” حاصل کرے گا یا پھر تہران سے “کسی اور طریقے” سے نمٹا جائے گا، جبکہ ایرانی دفتر خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ کئی نکات پر اتفاق کے باوجود وہ دستخط کے قریب نہیں ہیں۔

نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت کے مطابق امریکہ سفارت کاری کو پورا موقع دے رہا ہے، لیکن اگر بات نہ بنی تو متبادل راستے بھی موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت میز پر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو کھولنے اور جوہری معاملے پر ایک مخصوص وقت کے تحت باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے کا ٹھوس منصوبہ موجود ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یا تو یہ معاہدہ انتہائی شاندار اور بامعنی ہوگا، ورنہ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ ممکنہ معاہدے کا مسودہ 14 نکات پر مشتمل ہے، جس کا بنیادی مقصد جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کا امریکی بحری محاصرہ ختم کرانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال مذاکرات جوہری پروگرام پر نہیں ہو رہے؛ اگر موجودہ فریم ورک پر اتفاق ہو جاتا ہے، تو جوہری معاملے پر 60 دنوں کے اندر الگ سے مذاکرات ہوں گے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے، تقریباً بند پڑی ہے۔ اس بندش کے باعث دنیا بھر میں توانائی کا شدید بحران پیدا ہوا اور تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔ تاہم، حالیہ دنوں میں امن مذاکرات کی خبروں کے باعث پیر کے روز عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تاحال ایران کے جوہری عزائم، لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کی جنگ، اور غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایران کے اربوں ڈالر کے تیل کے فنڈز کی بحالی جیسے اہم اور پیچیدہ مسائل پر اختلافات برقرار ہیں۔ واضح رہے کہ اپریل کے اوائل سے دونوں فریقین کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی برقرار ہے، جس سے قبل امریکی و اسرائیلی بمباری اور ایرانی جوابی حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *