واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر، اردن اور ترکیہ سمیت متعدد ممالک سے رابطہ کیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک وسیع تر معاہدے کے حصے کے طور پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ‘ابراہیمی معاہدے’ (Abraham Accords) میں شامل ہوں۔
اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے کے روز ان ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے سربراہان سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی، جو پہلے ہی اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا: “میں لازمی طور پر یہ درخواست کر رہا ہوں کہ تمام ممالک فوری طور پر ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔ اگر ایران بطور امریکی صدر میرے ساتھ اپنے معاہدے پر دستخط کرتا ہے، تو انہیں بھی اس بے مثال عالمی اتحاد کا حصہ بنتے دیکھنا میرے لیے باعثِ اعزاز ہوگا۔”
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات “بہترین انداز” میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کوئی حتمی معاہدہ کب تک متوقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک سے انہوں نے بات کی ہے، ان میں سے شاید ایک یا دو ممالک کے پاس اس اتحاد کا حصہ نہ بننے کی کوئی وجہ ہو، لیکن زیادہ تر ممالک اس معاملے کو تاریخی بنانے کے لیے “تیار اور رضامند” ہیں۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور (2020) میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان ابراہیمی معاہدے کی ثالثی کی تھی، جس کے بعد مراکش اور سوڈان بھی اس کا حصہ بنے تھے۔ ٹرمپ خطے کے بڑے ملک سعودی عرب کی شمولیت کے لیے بھی پرامید رہے ہیں، تاہم ریاض نے اب تک اس حوالے سے کوئی آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔ دوسری جانب مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ پہلے ہی سفارتی تعلقات قائم ہیں۔
اس اہم ترین بیان پر پاکستانی دفتر خارجہ یا اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے فوری طور پر کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
