نیویارک (ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات پر دنیا کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن (CSW70) شروع ہو گیا ہے۔ 9 سے 19 مارچ تک جاری رہنے والے اس اجلاس کا مرکزی موضوع “تمام خواتین اور لڑکیوں کے لیے انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا اور اسے مضبوط کرنا” ہے۔
اجلاس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ دنیا بھر میں جمہوری خلا کم ہو رہا ہے اور خواتین کے حقوق کو کھلے عام پامال کیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر خواتین کو مردوں کے مقابلے میں صرف 64 فیصد قانونی حقوق حاصل ہیں، جبکہ قانونی عدم مساوات کے اثرات نسل در نسل پورے معاشروں کو متاثر کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ قانون کی نظر میں عدم مساوات کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ کئی ممالک میں زیادتی کو اب بھی باقاعدہ جرم تسلیم نہیں کیا جاتا، جبکہ بعض جگہوں پر لڑکیوں کی جبری شادی کو خاموش ریاستی حمایت حاصل ہے۔ اسی طرح مساوی کام کے باوجود خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی ہے۔
اجلاس میں جدید ٹیکنالوجی کے منفی استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ بتایا گیا کہ ڈیپ فیک (Deepfake) جیسی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بڑھ رہا ہے اور انٹرنیٹ پر موجود 90 فیصد سے زائد ڈیپ فیک مواد خواتین کی نازیبا تصاویر پر مشتمل ہے، جبکہ اس کے ذمہ دار افراد اکثر قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ جہاں ٹیکنالوجی ترقی کا ذریعہ ہے وہیں اسے خواتین کو ہراساں کرنے اور غلط معلومات پھیلانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے الگورتھم کے تعصب اور آن لائن بدسلوکی کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کی روشنی میں خواتین کو انصاف کی فراہمی کے لیے پانچ اہم مطالبات بھی پیش کیے گئے
مجرموں کو سزا دلانے کے لیے قانون کے سقم دور کیے جائیں اور احتساب کو یقینی بنایا جائے۔
امتیازی قوانین کا خاتمہ کر کے ایسے قوانین بنائے جائیں جو خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف مضبوط تحفظ فراہم کریں۔
قانونی امداد اور متاثرہ خواتین کے لیے سپورٹ سسٹم کو مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔
خواتین کی تنظیموں کو مضبوط بنایا جائے جو اصلاحات کے لیے کام کر رہی ہیں۔
ڈیجیٹل تفریق کو ختم کر کے ڈیٹا کو صنفی برابری کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔
اجلاس میں دنیا بھر سے حکومتی نمائندے، ماہرین اور سول سوسائٹی کے ارکان شریک ہیں جو خواتین کے حقوق کے تحفظ اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے آئندہ لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں۔
