18 مارچ 2026
نیویارک (ویب ڈیسک): اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ “سیکرٹری جنرل پیس بلڈنگ فنڈ” (PBF) کے دوسرے سالانہ مذاکرے میں پاکستان نے تنازعات سے متاثرہ ممالک میں دیرپا استحکام کے لیے فنڈز کی فراہمی میں تسلسل، قومی ملکیت (National Ownership) اور “پیس کنٹینوم” (Peace Continuum) اپروچ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے فرسٹ سیکرٹری، سید انصار شاہ نے خطاب کرتے ہوئے پیس بلڈنگ فنڈ کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اسے اقوام متحدہ کے امن ڈھانچے میں ایک “ناگزیر آلہ” قرار دیا جو لچکدار ہونے کے ساتھ ساتھ متعلقہ ممالک کی ترجیحات کے مطابق نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سید انصار شاہ نے اپنے بیان میں کلیدی امور پر روشنی ڈالی:
انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ امن سازی کے بنیادی اصولوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پیس بلڈنگ فنڈ (PBF) کی کامیابی کے لیے قابلِ پیشن گوئی اور مستقل فنڈنگ انتہائی ضروری ہے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ بچاؤ (Prevention)، امن مشنز (Peacekeeping)، امن سازی (Peacebuilding) اور ترقی (Development) کو ایک مربوط لڑی میں جوڑنا چاہیے۔
دیرپا امن صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ تب آتا ہے جب کمیونٹیز کو اس کے ثمرات ملیں، ادارے کام کریں اور لوگوں کا اعتماد بحال ہو۔
فنڈز کے استعمال میں متعلقہ ملک کی اپنی ترجیحات اور قومی ملکیت کو اولیت دی جانی چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے جمہوری جمہوریہ کانگو اور سیرالیون کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں پی بی ایف (PBF) کے زمینی نتائج حوصلہ کن ہیں۔ انہوں نے سوڈان اور گوئٹے مالا میں پراجیکٹس کی تشخیص کا خیرمقدم کیا اور مستقبل میں مزید ایسے شفاف جائزوں کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ امن سازی کی کوششوں کو زمینی سطح پر پائیدار استحکام میں بدلنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
