واشنگٹن / کاراکاس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد کے کیے گئے وینزویلا کے تیل کے تاریخی معاہدے کو دھوکہ اور قانونی خامیوں سے بھرپور قرار دے دیا گیا ہے۔
برطانیہ کے نامور اخبار ’دی گارڈین‘ کی ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ “تاریخ کا سب سے بڑا ائل ڈیل” قرار دیا جانے والا یہ معاہدہ لاجسٹک اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے مکمل طور پر ناکام ہونے کے قریب ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ پینٹاگون کے نئے محکمے آفس آف اسٹریٹجک کیپیٹل (OSC) کے ذریعے نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز (Nabep) میں 35 فیصد شیئرز حاصل کر لیے گئے ہیں جس سے امریکہ وینزویلا کے 65 ارب بیرل تیل پر کنٹرول حاصل کر لے گا، تاہم ماہرین نے ان تمام دعوؤں کو محض “پروپیگنڈا” قرار دیا ہے۔
امریکی قوانین کی خلاف ورزی: امریکی ماہرینِ قانون کے مطابق پینٹاگون کا ادارہ (OSC) یا دفاعی فنڈز کسی بھی نجی یا غیر ملکی کمپنی میں شیئرز رکھنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتے۔
وینزویلا کا آئین و قانون: ٹرمپ کی جانب سے 100 سالہ معاہدے کے دعوے کو وینزویلا کے قانون نے مسترد کر دیا ہے۔ وینزویلا میں تیل کی ترقی کے لیے زیادہ سے زیادہ 25 سالہ معاہدے کی ہی اجازت ہے۔
اس معاہدے کا مرکزی کردار 46 سالہ وینزویلا کا بزنس مین الیگزینڈر بیٹنکورٹ (Alejandro Betancourt López) ہے، جو پہلے ہی بین الاقوامی کرپشن اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کی زد میں رہا ہے اور امریکی حکام کے ساتھ شراکت دار بنا ہوا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ نہ تو وینزویلا میں نیا غیر ملکی سرمایہ لائے گا اور نہ ہی اس سے امریکی سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو جلد بھرے جا سکیں گے۔
سابق امریکی سفارتکار جان فیلی (John Feeley) نے اس معاہدے کو ٹرمپ کی اس سابقہ دیوار سے تشبیہ دی جس کی ادائیگی مکسیکو کو کرنی تھی، اور کہا کہ “یہ محض ایک سیاسی ڈرامہ ہے۔”





