Trump Tariffs Add Pressure on US Labor Market

Editor News

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی محکمہ محنت کی جانب سے جاری کردہ فروری کی رپورٹ کے مطابق امریکی معیشت میں غیر متوقع طور پر 92 ہزار ملازمتیں ختم ہو گئیں، جس نے ماہرین معاشیات کو حیران کر دیا ہے۔ یہ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران چھٹی مرتبہ ہے جب لیبر مارکیٹ میں سکڑاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین معاشیات نے فروری میں ملازمتوں میں معمولی اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔ رائٹرز نے تقریباً 59 ہزار جبکہ بلومبرگ نے 55 ہزار نئی ملازمتوں کا اندازہ لگایا تھا، تاہم اصل اعداد و شمار توقعات کے برعکس سامنے آئے۔

اعداد و شمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح جنوری کے 4.3 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر فروری میں 4.4 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح طویل مدتی بے روزگاری میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے اور بے روزگار افراد میں سے 25 فیصد سے زائد ایسے ہیں جو گزشتہ 27 ہفتوں سے زیادہ عرصے سے ملازمت کی تلاش میں ہیں۔

فروری کے دوران ملازمتوں میں کمی کا اثر مختلف اہم شعبوں پر پڑا۔ ٹیکنالوجی کے شعبے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا جہاں تقریباً 28 ہزار ملازمتیں ختم ہوئیں۔

وفاقی حکومتی اداروں میں بھی تقریباً 10 ہزار ملازمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی ایک بڑی وجہ کیلیفورنیا، ہوائی اور نیویارک میں ہونے والی ہڑتالیں قرار دی جا رہی ہیں۔

اسی طرح تجارتی ٹیرف سے متاثرہ صنعتی شعبے میں 11 ہزار ملازمتیں ختم ہوئیں، جس کے بعد گزشتہ ایک سال کے دوران اس صنعت میں ختم ہونے والی ملازمتوں کی مجموعی تعداد 157 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حال ہی میں نافذ کیے گئے 10 فیصد عالمی تجارتی ٹیرف، جو جلد 15 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے، نے لیبر مارکیٹ پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔

روزگار کے کمزور اعداد و شمار کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ بھی مندی کا شکار رہی۔ نیس ڈیک میں 0.8 فیصد، ایس اینڈ پی 500 میں 1 فیصد جبکہ ڈاؤ جونز انڈیکس میں 1.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

فیڈرل ریزرو کے لیے مشکل صورتحال

ماہرین کا کہنا ہے کہ روزگار کے کمزور اعداد و شمار نے امریکی مرکزی بینک کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ 17 اور 18 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں شرح سود کو 3.50 فیصد سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھنے کی توقع ہے، تاہم جون میں شرح سود میں ممکنہ کمی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

مورگن اسٹینلے کی چیف اسٹریٹجسٹ ایلن زینٹنر کے مطابق لیبر مارکیٹ کی کمزوری شرح سود میں کمی کی جانب اشارہ کرتی ہے، تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خدشات کے باعث فیڈرل ریزرو فوری طور پر کوئی بڑا فیصلہ کرنے سے گریز کر سکتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *