لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکی مڈٹرم انتخابات سےقبل ٹرمپ کےاربوں ڈالر کےمنصوبوں پرتنازع کھڑاہوگیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر 2026 کے مڈ ٹرم انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل کے نامناسب استعمال اور قبل از وقت معاشی دعوے کرنے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے وائٹ ہاؤس سے دو انتہائی اہم منصوبوں کا اعلان کیا جو سینیٹ کے سخت مقابلے والی ریاستوں آئیووا (Iowa) اور الاسکا (Alaska) سے مربوط تھے، تاہم دونوں منصوبوں کے حوالے سے مقامی حکام اور غیر ملکی وزراء نے ان دعووں کو قبل از وقت یا غیر حتمی قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ہر بالغ امریکی کو $5,000 کا ‘ٹرمپ ڈیویڈنڈ’ دینے اور او باما کیئر صارفین کو $500 فراہم کرنے جیسے انتخابی وعدے بھی کیے ہیں۔ تاہم، سینیٹ انتخابات سے ایک ماہ قبل کیے جانے والے معاشی اعلانات کے واقعی حتمی ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ اور سیکرٹری برائے تجارت ہاورڈ لوٹنک نے دعویٰ کیا کہ آئیووا میں 15 ارب ڈالر کا میسابا میٹالکس (Mesabi Metallics) اسٹیل پلانٹ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور تعمیر شروع ہو چکی ہے۔

تاہم اگلے ہی دن آئیووا کی گورنر نے ٹیکس رعایتوں کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور مقامی حکام نے بتایا کہ ابھی تک زمین خریدی گئی نہ ہی پرمٹ جاری کیے گئے۔ ناقدین اس کی موازنہ 2017 کے فاکس کون (Foxconn) منصوبے سے کر رہے ہیں جو کبھی مکمل نہیں ہو سکا۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنوبی کوریا الاسکا کی گیس پائپ لائن میں 50 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

تاہم جنوبی کوریا کے وزیرِ تجارت کم جونگ کوان نے اس بیان کی فوری تردید کرتے ہوئے کہا کہ “حتمی الفاظ استعمال کرنا طے شدہ معاہدے سے آگے کی بات ہے” اور جنوبی کوریا ابھی اس کا جائزہ لے رہا ہے۔