Strait of Hormuz Back Under Tight Iranian Control After Brief Opening

واضح رہے کہ 28 فروری سے جاری اس تنازع نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے، کیونکہ دنیا کی کل تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

Editor News

تہران / واشنگٹن (ویب ڈیسک): ایران کے ‘خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر’ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری ٹریفک کو دوبارہ سخت فوجی کنٹرول کے نظام کے تحت لے آیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور مبینہ سمندری قزاقی کی کارروائیوں کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب محض چند گھنٹے قبل لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایران نے خیر سگالی کے طور پر اس عالمی تجارتی شاہراہ کو عارضی طور پر کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے دوران تمام تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھلا رہے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایریزونا میں ایک ریلی کے دوران ایران کے اس اقدام کو دنیا کے لیے ایک “شاندار دن” قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ “معاہدہ” 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔ ٹرمپ نے ائیر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات اچھے جا رہے ہیں لیکن اگر بدھ تک کوئی حتمی ڈیل نہ ہوئی تو جنگ بندی ختم کی جا سکتی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی ناکہ بندی برقرار رہی تو آبنائے ہرمز کو کھلا نہیں رکھا جائے گا۔ انہوں نے ٹرمپ پر امن مذاکرات کے حوالے سے جھوٹے دعوے کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

واضح رہے کہ 28 فروری سے جاری اس تنازع نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے، کیونکہ دنیا کی کل تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *