لاس ویگاس(ویب ڈیسک): امریکہ میں دورانِ پرواز پیش آنے والی ایک ہنگامی صورتحال کے دوران پاکستانی نژاد سابق فضائیہ افسر نے غیرمعمولی جرات اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسافروں اور فضائی عملے کی مدد کی، جس پر انہیں جہاز کے عملے اور مسافروں کی جانب سے بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
5 جون 2026 کو فرنٹیئر ائیرلائن کی فلائٹ 2407 لاس ویگاس سے واشنگٹن کی جانب روانہ تھی۔ پرواز میں دو سو سے زائد مسافر سوار تھے کہ ٹیک آف کے چند منٹ بعد ایک مسافر نے اچانک پرتشدد رویہ اختیار کر لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مذکورہ شخص بار بار کاک پٹ تک پہنچنے اور جہاز کے مختلف حصوں میں بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ اسے روکنے والے فضائی عملے کے افراد پر بھی حملہ آور ہو رہا تھا۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب خدشہ ظاہر کیا گیا کہ وہ ایمرجنسی دروازوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ جہاز کے کپتان نے مسافروں سے تعاون کی اپیل کی، جس کے بعد متعدد مسافروں نے عملے کے ساتھ مل کر صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔
ان افراد میں پاکستان فضائیہ کے ریٹائرڈ سکواڈرن لیڈر زاہد یعقوب عامر بھی شامل تھے، جو اس وقت امریکہ میں پی ایچ ڈی فیلوشپ کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ زاہد یعقوب عامر نے خطرات کے باوجود آگے بڑھ کر اس شخص کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور دیگر مسافروں کو بھی پرسکون رہنے کی تلقین کرتے رہے۔ ویڈیوز میں انہیں مسافروں سے پینک نہ کرنے اور اگر کوئی ڈاکٹر موجود ہو تو مدد کے لیے آگے آنے کی اپیل کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
فضائی عملے نے بھی غیرمعمولی پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ایک ایئر ہوسٹس، جو امریکی بحریہ کی سابق اہلکار بتائی جاتی ہیں، نے صورتحال کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا اور حملوں کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔
ہنگامی صورتحال کے پیش نظر جہاز کو اپنی منزل تک پہنچنے سے تقریباً دو گھنٹے قبل رینو تاہو ایئرپورٹ پر اتارا گیا، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مذکورہ مسافر کو حراست میں لے لیا۔
کپتان شان اور کوپائلٹ ٹکر نے کاک پٹ کو محفوظ رکھتے ہوئے پرواز کا کنٹرول برقرار رکھا اور کامیاب ہنگامی لینڈنگ کو یقینی بنایا۔ بعد ازاں جہاز تقریباً اڑھائی گھنٹے کی تاخیر کے بعد اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا۔
فرنٹیئر ائیرلائن نے واقعے کے بعد مسافروں سے معذرت کرتے ہوئے انہیں کھانے کے اخراجات کے لیے 25 ڈالر کا کریڈٹ فراہم کیا۔
مسافروں کا کہنا تھا کہ پرواز کے اس مشکل ترین مرحلے میں چند بہادر افراد اور فضائی عملے کی بروقت کارروائی نے ممکنہ بڑے حادثے کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ زاہد یعقوب عامر کی جرات، تحمل اور پیشہ ورانہ تربیت نے نہ صرف متعدد افراد کو تحفظ کا احساس دیا بلکہ پاکستان کا مثبت اور ذمہ دارانہ تشخص بھی اجاگر کیا۔
بلاشبہ، سکواڈرن لیڈر زاہد یعقوب عامر کا یہ اقدام ہمت، ذمہ داری اور انسان دوستی کی ایک قابلِ تقلید مثال ہے، جس پر وہ داد و تحسین کے مستحق ہیں۔
