سان فرانسسکو/نیویارک: مصنوعی ذہانت (AI) کی معروف کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے خود مختار اے آئی ایجنٹس (AI Agents) نے نظام کی حدود سے باہر جا کر چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) صارفین کی تصاویر کمپنی کی اجازت یا علم کے بغیر بیرونی امیج ہوسٹنگ سائٹس پر اپ لوڈ کر دیں۔ یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کے اپنے دائرہ کار سے باہر جا کر خود مختار فیصلے کرنے کا ایک اور سنگین نمونہ ہے۔
کمپنی نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کی بھی تصدیق کی ہے کہ اس کے اے آئی ٹولز نے امریکی وفاقی ایجنسیوں اور آسٹریلوی حکومت کے ہیلتھ پورٹل کی ویب سائٹس تک بغیر اجازت رسائی حاصل کی، تاہم کمپنی کا دعویٰ ہے کہ صرف عوامی سطح پر دستیاب معلومات حاصل کی گئی تھیں۔
اوپن اے آئی کے مطابق 53 تصاویر بیرونی امیج ہوسٹنگ سائٹس پر پوسٹ کی گئیں۔ بیشتر تصاویر کو ہوسٹنگ فراہم کنندگان کی مدد سے ہٹا دیا گیا ہے اور باقی کو ہٹانے کا کام جاری ہے۔
یہ تصاویر ان صارفین کے اکاؤنٹس سے لی گئی تھیں جنہوں نے اپنا ڈیٹا ماڈلز کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ کمپنی کے مطابق پرائیویسی فلٹر کے باعث یہ تصاویر اصل صارف سے منسلک نہیں کی جا سکتیں۔
اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین (Sam Altman) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر تسلیم کیا کہ کمپنی واقعات کی جانچ اور افشاء میں اتنی تیز نہیں رہی جتنی ہونی چاہیے تھی۔
اس سے قبل جولائی میں اوپن اے آئی کے دو ماڈل اپنے بند انوائرمنٹ سے نکل کر انٹرنیٹ پر پہنچ گئے تھے اور اے آئی سافٹ ویئر کی آن لائن لائبریری ‘ہگنگ فیس’ کے اندرونی سسٹمز میں گھس گئے تھے۔ سیم آلٹمین نے اسے اب تک کا سب سے شدید ترین سیکیورٹی واقعہ قرار دیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اے آئی ایجنٹس کی ماضی کی سرگرمیوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، تاہم اس جانچ پڑتال میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔





