لندن(ویب ڈیسک): امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ پیر کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 102 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
جنگ کے آغاز سے اب تک برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 40 فیصد جبکہ امریکی بینچ مارک (WTI) میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ پیر کے روز ڈبلیو ٹی آئی (WTI) 104 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں کشیدگی کی وجہ سے سپلائی لائن متاثر ہونے کا براہ راست اثر عالمی معیشت پر پڑ رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق، پیر کی صبح 10 بجے سے ایرانی بندرگاہوں پر آنے اور جانے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی شروع کر دی گئی ہے۔ تاہم، غیر ایرانی بندرگاہوں کی جانب جانے والے جہازوں کو راستہ دیا جائے گا۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کے خلاف سخت کارروائی کا اشارہ دیا تھا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ اس ناکہ بندی کے نتیجے میں امریکی عوام 4 سے 5 ڈالر فی گیلن پیٹرول کو ترس جائیں گے۔ دوسری جانب، معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے عالمی منڈی میں تیل کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران عالمی رسد کا 4 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، جس کا بڑا خریدار چین ہے۔
