Oil Market Shaken by UAE Move and Trump’s Iran Blockade Stance

Editor News

نیویارک(ویب ڈیسک): عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کی صبح اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 122 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ یہ 2022 کے بعد تیل کی بلند ترین سطح ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اس حالیہ اضافے کی دو بڑی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔ پہلی وجہ متحدہ عرب امارات (UAE) کا اچانک اوپیک (OPEC) اور اوپیک پلس اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ ہے، جس نے مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ دوسری بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے سے انکار ہے، جس کے باعث سپلائی کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

عالمی توانائی کا مرکز سمجھی جانے والی “آبنائے ہرمز” (Strait of Hormuz) میں جاری فوجی تناؤ نے عالمی رسد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دنیا بھر کی تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جو فی الوقت امریکی ناکہ بندی اور ایرانی پابندیوں کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار رہی اور سپلائی لائنز بحال نہ ہوئیں تو عالمی معیشت کو بدترین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اپریل کے آغاز میں اسلام آباد مذاکرات کے دوران قیمتوں میں کچھ کمی آئی تھی، تاہم مذاکرات کی ناکامی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *