NYC Plans Strict Fines for Retailers Violating New Pricing Regulations

ڈائنامک پرائسنگ سے مراد وہ طریقہ کار ہے جس کے تحت اسٹورز دن کے وقت، گاہکوں کے رش (ڈیمانڈ) اور خریداروں کے ڈیٹا کو مانیٹر کرتے ہوئے اشیاء کی قیمتوں میں فوری ردوبدل کرتے ہیں۔

Editor News

نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک سٹی میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں منٹوں کے حساب سے ہونے والے اضافے کو روکنے کے لیے سٹی کونسل میں ایک اہم قانونی بل پیش کر دیا گیا ہے۔

اس مجوزہ مقامی قانون کے تحت گروسری اسٹورز اور ریٹیلرز کو 24 گھنٹوں کے دوران صرف ایک بار قیمتیں بڑھانے کی اجازت ہوگی اور ان پر “ڈائنامک پرائسنگ” (Dynamic Pricing) پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔

ڈائنامک پرائسنگ سے مراد وہ طریقہ کار ہے جس کے تحت اسٹورز دن کے وقت، گاہکوں کے رش (ڈیمانڈ) اور خریداروں کے ڈیٹا کو مانیٹر کرتے ہوئے اشیاء کی قیمتوں میں فوری ردوبدل کرتے ہیں۔

اس بل کے بنیادی سپانسر اور سٹی کونسل کے رکن شان ابریو کا کہنا ہے کہ “جدید الگورتھمک ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک شیلف لیبلز کی وجہ سے ریٹیلرز منٹوں میں قیمتیں بدل دیتے ہیں۔ اس بل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جب کوئی خریدار اسٹور میں داخل ہو، تو اسے وہی قیمت ادا کرنی پڑے جو اس نے شیلف پر دیکھی تھی۔”

قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ریٹیلرز پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے، جس میں پہلی خلاف ورزی پر 50 ڈالرز، دوسری پر 170 ڈالرز اور اس کے بعد ہر بار خلاف ورزی پر 250 ڈالرز جرمانہ ہوگا۔

واضح رہے کہ نیویارک کے ریاستی قانون ساز اور اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز بھی “سرویلنس پرائسنگ” (صارفین کے ڈیٹا کی بنیاد پر قیمتیں طے کرنے) کے خلاف سخت اقدامات اور ‘ون فیئر پرائس ایکٹ’ پاس کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اپریل میں مہنگائی کی شرح 3.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور شپنگ اخراجات میں اضافے کی وجہ سے گروسری کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *