NYC Enforces Anti-Idling Law, Collects Millions in Penalties from Amazon

کمپنی نے مزید کہا کہ وہ نیویارک میں ماحول دوست اقدامات جیسے کہ ای-کارگو بائیکس اور الیکٹرک ڈیلیوری وینز کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔

Editor News

نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ شہر میں ڈیلیوری گاڑیوں کے انجن بلا ضرورت کھلے رکھنے (Idling) اور فضائی آلودگی پھیلانے کی مد میں ایمیزون (Amazon) سے 90 لاکھ ڈالرز (9 ملین ڈالرز) سے زائد کے واجب الادا جرمانے وصول کر لیے گئے ہیں۔

نیویارک سٹی کے محکمہ فنانس نے رواں سال کے آغاز میں ایمیزون اور اس کے ڈیلیوری کنٹریکٹرز کے خلاف طویل عرصے سے واجب الادا جرمانوں کی وصولی کے لیے ایک خصوصی مہم شروع کی تھی، جس کے بعد اب یہ بھاری رقم وصول کر لی گئی ہے۔

میئر زہران ممدانی نے اس کارروائی کے حوالے سے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:”ایمیزون 2 ٹریلین ڈالرز کی کمپنی ہے، لیکن اس کے باوجود اس نے ان لاکھوں ڈالرز کے جرمانوں کو ادا کرنا گوارا نہیں کیا جو اس کے ٹرکوں کی جانب سے ہماری ہوا کو غیر قانونی طور پر آلودہ کرنے اور نیویارک کے شہریوں کو زہریلے دھوئیں میں سانس لینے پر مجبور کرنے کی وجہ سے عائد کیے گئے تھے۔”

نیویارک سٹی کے قانون کے مطابق، کسی بھی گاڑی کو پارکنگ، اسٹینڈنگ یا رکنے کی صورت میں 3 منٹ سے زیادہ وقت کے لیے انجن کھلا رکھنے (Idle) کی اجازت نہیں ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد نقصان دہ فضائی آلودگی کو کم کرنا، عوامی صحت کو بہتر بنانا اور موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے خلاف جنگ لڑنا ہے۔ میئر آفس نے شہریوں کو یاد دہانی کروائی ہے کہ وہ 311 یا محکمہ تحفظِ ماحول (DEP) کے شکایات پروگرام کے ذریعے ایسی خلاف ورزیوں کی رپورٹ درج کروا سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایمیزون کے ترجمان نے جرمانوں کی ادائیگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے ان جرمانوں کو حل کرنے کے لیے سٹی حکام کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹریکنگ کے نظام میں خرابی کے باعث بہت سے جرمانوں کے نوٹس ان ڈیلیوری پارٹنرز تک وقت پر نہیں پہنچ سکے تھے جن کی گاڑیاں اس کی ذمہ دار تھیں۔ اب اس عمل کو درست کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں جرمانوں کے نوٹس صحیح جگہ پہنچ سکیں۔

کمپنی نے مزید کہا کہ وہ نیویارک میں ماحول دوست اقدامات جیسے کہ ای-کارگو بائیکس اور الیکٹرک ڈیلیوری وینز کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *