No Breakthrough in Iran–US Talks, US Refuses to Compromise on ‘Red Lines’

وینس نے کہا کہ امریکی ٹیم نے ایران کو اپنی "آخری اور بہترین پیشکش" دے دی ہے اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے

Editor News

اسلام آباد: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے 21 گھنٹے طویل مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔

امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ شرائط کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، جو کہ ایران کے لیے ایک بڑا نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے بتایا کہ “بدقسمتی سے ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ یہ خبر امریکہ سے زیادہ ایران کے لیے بری ہے کیونکہ ہم نے اپنی ‘ریڈ لائنز’ (سرخ لکیریں) پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔” نائب صدر نے مزید کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور اس دوران انہوں نے کم از کم ایک درجن بار صدر سے مشاورت کی۔

امریکہ کی اہم شرائط جے ڈی وینس کے مطابق، امریکہ کا بنیادی ہدف یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا، “ہمیں ایران کی جانب سے ٹھوس یقین دہانی چاہیے کہ وہ نہ تو ایٹمی ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی ایسے آلات تلاش کرے گا جو اسے ایٹمی طاقت بننے میں مدد دیں۔”اعلیٰ سطحی وفود کی شرکتان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے جبکہ ان کے ہمراہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔

ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف شامل تھے۔ یہ مذاکرات 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی فوجی آپریشن ‘ایپک فیوری’ (Operation Epic Fury) کے ایک ماہ بعد اور صدر ٹرمپ کی جانب سے حالیہ جنگ بندی کے اعلان کے تناظر میں منعقد کیے گئے تھے۔

وینس نے کہا کہ امریکی ٹیم نے ایران کو اپنی “آخری اور بہترین پیشکش” دے دی ہے اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔ اگر ایران ان شرائط کو قبول نہیں کرتا تو خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *