نیویارک: نیویارک کی ریاستی مقننہ (اسمبلی اور سینٹ) نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے 18 مارچ 2026 کو ریاست بھر میں “پاکستانی-امریکی بزنس سیلیبریشن ڈے” کے طور پر منانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ یہ قرارداد ریاست کی معاشی ترقی اور ثقافتی تنوع میں پاکستانی نژاد امریکی تاجروں اور پیشہ ور افراد کے گراں قدر کردار کے اعتراف میں پیش کی گئی۔

منظور شدہ قرارداد میں ریٹیل، ٹیکنالوجی، فنانس، ہیلتھ کیئر، رئیل اسٹیٹ اور ہاسپیٹلٹی جیسے اہم شعبوں میں پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو سراہا گیا۔ قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ:
پاکستانی-امریکی کاروباری برادری نیویارک کی معاشی ترقی کا انجن ہے۔
یہ برادری پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔
مستقبل میں نیویارک اور پاکستان کے درمیان ادارہ جاتی تعاون اور تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی۔

اس موقع پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ، قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی اور ٹریڈ کونسلر عدنان محمود اعوان نے البانی میں نیویارک اسٹیٹ لیجسلیچر کی کارروائی میں خصوصی شرکت کی۔
سفیرِ پاکستان نے نیویارک اسٹیٹ سینٹ کی اکثریتی رہنما اینڈریا سٹیورٹ کزنز سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور نیویارک کے درمیان معاشی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعد ازاں، قرارداد کی منظوری کی خوشی میں ایک استقبالیہ تقریب بھی منعقد کی گئی جس میں سینیٹر لیروئے کومری، سینیٹر جیسکا سپینٹن اور اسمبلی ممبر فل راموس سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں سفیر رضوان سعید شیخ نے سینیٹر جان لیو، اسمبلی ممبر نادر صایغ اور امریکن پاکستانی ایڈوکیسی گروپ (APAG) کے صدر علی راشد کی کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا:”اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ مثبت تعلقات کو ٹھوس معاشی نتائج میں بدلا جائے۔ یہ قرارداد محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک سرمایہ کاری ہے، کیونکہ پائیدار شراکت داری ہمیشہ مضبوط معاشی بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔”

سینیٹر جیسکا راموس نے سینٹ فلور پر پاکستانی کمیونٹی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی-امریکی کمیونٹی نیویارک کی کامیابی کی کہانی کا ایک لازمی حصہ ہے، جس نے اس ریاست کو رہنے کے لیے ایک بہترین جگہ بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
یہ قرارداد ریاست نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور ان کی سماجی و معاشی خدمات کی ایک ب
ڑی عالمی شناخت بن کر سامنے آئی ہے

