New York Rolls Out Massive Transport and Security Plan for FIFA World Cup 2026

عوام کی سہولت اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے میئر زہران کوامے ممدانی اور گورنر کیتھی ہوچل آج صبح ٹرانسپورٹ اور تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم مشترکہ پریس بریفنگ د

Atif Khan

نیویارک: دنیا کے سب سے بڑے کھیل ‘فیفا ورلڈ کپ 2026’ کے آغاز میں اب صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے، اور نیویارک سٹی دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں مداحوں کے استقبال کے لیے کمر بستہ ہے۔

عوام کی سہولت اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے میئر زہران کوامے ممدانی اور گورنر کیتھی ہوچل آج صبح ٹرانسپورٹ اور تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم مشترکہ پریس بریفنگ د

ورلڈ کپ میچز کے دوران مڈ ٹاؤن (Midtown) مینہٹن میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اگلے ہفتے سے نیویارک کی مشہور 42 ویں اسٹریٹ (42nd Street) کو عارضی طور پر صرف بس اور شٹل کوریڈور میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ میچ والے دنوں میں ففتھ (5th) اور سکستھ (6th) ایونیو کی بس لینز کو بھی خصوصی طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انتظامیہ نے میچ والے تمام دنوں کو ‘گریڈ لاک الرٹ ڈیز’ (شدید ترین ٹریفک جام والے دن) قرار دیا ہے۔

پین اسٹیشن (Penn Station) پر سخت پابندیاں:
میٹ لائف اسٹیڈیم (MetLife Stadium) جانے والے شائقین کے لیے ٹرین سروس کے حوالے سے سخت رولز بنائے گئے ہیں:

صرف ٹکٹ ہولڈرز کو اجازت: میچ شروع ہونے (Kickoff) سے ٹھیک 4 گھنٹے پہلے پین اسٹیشن سے نکلنے والی ٹرینوں میں صرف ورلڈ کپ میچ کا ٹکٹ یا رسٹ بینڈ رکھنے والوں کو سوار ہونے کی اجازت ہوگی۔ وہاں سخت سیکیورٹی زون قائم کیے جا رہے ہیں۔

عام مسافروں کے لیے متبادل: اس دوران روزانہ سفر کرنے والے عام شہریوں کو 33 ویں اسٹریٹ سے ‘پاتھ’ (PATH) ٹرینیں یا پورٹ اتھارٹی سے ‘نیو جرسی ٹرانزٹ’ بسیں استعمال کرنی ہوں گی۔

: میچ شروع ہونے سے 6 گھنٹے پہلے پین اسٹیشن کے ارد گرد 32 ویں اور 33 ویں اسٹریٹ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گا۔

کمرشل گاڑیوں پر پابندی:1
حکام کے مطابق، میچ شروع ہونے سے 6 گھنٹے پہلے سے لے کر میچ ختم ہونے کے 3 گھنٹے بعد تک کسی بھی بڑے تجارتی ٹرک (Commercial Truck) کو مڈ ٹاؤن مینہٹن کے علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انتظامیہ نے روزانہ سفر کرنے والے نیویارکرز اور نیو جرسی کے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے اپنے سفری اوقات اور راستوں کا پہلے سے تعین کریں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *