سانتا فے، نیو میکسیکو (ویب ڈیسک): امریکی ریاست نیو میکسیکو کی ایک جیوری نے سوشل میڈیا جائنٹ ‘میٹا’ (فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی) کے خلاف ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی پر 375 ملین ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ میٹا نے اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت کے حوالے سے صارفین کو گمراہ کیا اور بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔
جیوری نے میٹا کو صارفین کے تحفظ کے قانون (Unfair Practices Act) کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا، جس کے تحت ہر خلاف ورزی پر 5,000 ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا، جو مجموعی طور پر 375 ملین ڈالر بنتا ہے۔
مقدمے کے دوران انکشاف ہوا کہ میٹا کے اعلیٰ حکام، بشمول مارک زکربرگ، ان سفارشات سے واقف تھے جن کے ذریعے ایپس کو بچوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکتا تھا، لیکن مالی مفادات کی خاطر انہیں نظر انداز کیا گیا۔
استغاثہ نے موقف اپنایا کہ کمپنی نے جانتے بوجھتے ایک ایسا “نشہ آور” پراڈکٹ بنایا جس نے نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچایا اور انہیں آن لائن جنسی شکاریوں (Predators) کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز نے اس فیصلے کو “تاریخی لمحہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ کسی ریاست نے کسی بڑی سوشل میڈیا کمپنی کو نوجوان صارفین کو نقصان پہنچانے پر جوابدہ ٹھہرایا ہے۔ میٹا نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
