New Jersey Governor Orders “Safe Protest Zone” Amid Rising Tensions at ICE Facility

سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ حراستی مرکز میں بند افراد بہتر خوراک، طبی امداد اور گورنر سے براہِ راست ملاقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Editor News

نیو جرسی (ویب ڈیسک): امریکی ریاست نیو جرسی کے حراستی مرکز ‘ڈیلینی ہال’ (Delaney Hall) کے اندر خراب حالات اور قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کے خلاف ایک ہفتے سے جاری احتجاج شدید تر ہو گیا ہے، جس کے بعد ریاستی حکام کو مداخلت کرنا پڑی ہے۔

نیو جرسی کی گورنر مائیکی شیرل (Gov. Mikie Sherrill) نے مظاہرین اور وفاقی اہلکاروں کے درمیان روز بروز بڑھتی ہوئی کشیدگی، گرفتاریوں اور مرچوں کے اسپرے (pepper-spraying) کے واقعات کے بعد اسٹیٹ پولیس کو جائے وقوعہ پر ایک ‘محفوظ احتجاجی زون’ قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب حراستی مرکز کے اندر قیدیوں کی جانب سے بھوک ہڑتال اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کی رپورٹس سامنے آئیں۔ سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ حراستی مرکز میں بند افراد بہتر خوراک، طبی امداد اور گورنر سے براہِ راست ملاقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

معاملہ اس وقت مزید بگڑ گیا جب رواں ہفتے وفاقی حکام نے نیو جرسی کی گورنر مائیکی شیرل کو حراستی مرکز کے اندر جانے سے روک دیا۔ گورنر نے وفاقی حکام سے شفافیت کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ وفاقی امیگریشن حکام (ICE) نے قیدیوں کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے حراستی مرکز کے اندرونی انتظامات کا دفاع کیا ہے۔ اس دوران وفاقی افسران پر مبینہ طور پر حملہ کرنے اور کاٹنے کے الزام میں ایک مظاہرین پر سنگین مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔

اس تنازع نے اس وقت ایک سنگین موڑ لے لیا جب امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے سیکریٹری مارک وین ملن نے مظاہروں کے ردعمل میں نیو جرسی میں بین الاقوامی پروازوں کی پروسیسنگ بند کرنے کی دھمکی دے دی۔

وفاق کی اس دھمکی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے گورنر مائیکی شیرل نے کہا کہ “مدد کرنے کے بجائے ہمیں وفاق کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ وہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے عین آغاز سے قبل نیوارک (Newark) کا انٹرنیشنل ٹرمینل بند کر دیں گے۔

یہ انتہائی مضحکہ خیز اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔” واضح رہے کہ صورتحال پر قابو پانے اور مختلف احتجاجی گروپوں کو ٹکراؤ سے بچانے کے لیے ہفتے کے روز اسٹیٹ پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *