سلیکون ویلی: گوگل کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے نئے TurboQuant الگورتھم کے اعلان کے بعد عالمی میموری چپ اسٹاکس میں شدید مندی دیکھی گئی۔ مائیکرون کے شیئرز میں 7 فیصد، سین ڈسک میں 10 فیصد اور سام سنگ کی قدر میں 8 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔
ٹربو کوانٹ کیا ہے؟ یہ ایک ایسا الگورتھم ہے جو AI ماڈلز میں ڈیٹا کو اس قدر کمپریس (Compress) کر دیتا ہے کہ میموری کی ضرورت 6 گنا تک کم ہو جاتی ہے، جبکہ پروسیسنگ کی رفتار میں 8 گنا اضافہ ہوتا ہے۔ سرمایہ کاروں میں یہ خوف پھیل گیا ہے کہ اگر AI کو کم میموری کی ضرورت ہوگی، تو DRAM اور NAND چپس کی طلب کم ہو جائے گی۔
تاہم، ماہرین اور ‘ویلز فارگو’ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گھبراہٹ عارضی ہو سکتی ہے۔ ماضی میں جب بھی ٹیکنالوجی زیادہ موثر ہوئی ہے، اس کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جس سے طویل مدتی ہارڈ ویئر کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ سین ڈسک کے سی ایف او لوئس ویزوسو کے مطابق، یہ کارکردگی انفراسٹرکچر پر ہونے والے اخراجات پر بہتر منافع فراہم کرے گی، جو بالآخر مارکیٹ کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔
