تہران/واشنگٹن (ویب ڈیسک): ایران نے تاحال امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پیش کردہ حتمی معاہدے کے مسودے پر اپنا جواب جمع نہیں کرایا ہے۔ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ تہران میں اس مسودے پر تفصیلی مشاورت اور غور و خوض کا سلسلہ جاری ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات اور واشنگٹن کی جانب سے ماضی کے وعدوں کی خلاف ورزیوں کے باعث پیدا ہونے والے گہرے عدم اعتماد کی وجہ سے ایرانی حکام انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی معاہدے کے نتیجے میں محض زبانی یقین دہانیوں کے بجائے عملی اور ٹھوس فوائد کا خواہاں ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شدید فوجی ٹکراؤ کے بعد سے خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ اگرچہ 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہوا تھا، تاہم بعد ازاں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی مستقل معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔
ایران کا بنیادی مطالبہ ہے کہ مستقل امن کے لیے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ مکمل طور پر روکی جائے، جہاں اسرائیلی فوجی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بیروت میں فوجی سرگرمیاں کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب، تہران کی جانب سے بالواسطہ مذاکرات معطل کرنے کی افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “ایران کے ساتھ مذاکرات تیز رفتاری سے جاری ہیں” اور واشنگٹن اس معاملے میں صبر و تحمل سے کام لینے کے لیے تیار ہے۔
تاہم، ایرانی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور امریکہ نے مکمل تسلیم خم کرنے کا مطالبہ برقرار رکھا، تو دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ جنگ ناگزیر ہو سکتی ہے۔ اس سفارتی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
