ویانا (ویب ڈیسک) : اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (IAEA) کے گورننگ بورڈ نے بدھ کے روز مغربی ممالک کی جانب سے پیش کردہ ایک سخت قرارداد منظور کر لی ہے، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ “بغیر کسی تاخیر” کے اپنے یورینیئم کے ذخائر اور پیداواری تنصیبات سے متعلق تمام معلومات فراہم کرے۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ کی طرف سے تیار کردہ اس قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ انتہائی “لازمی اور ہنگامی” ہے کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو جوہری مواد کی فہرستوں اور تنصیبات کے ڈیزائن کی مکمل تفصیلات فراہم کرے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ایران کی متعدد جوہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے جواب میں ایران نے ردعمل کے طور پر آئی اے ای اے (IAEA) کے انسپکٹرز کی اپنی تنصیبات تک رسائی کو عملی طور پر مکمل ختم کر دیا ہے۔
رسائی کی اس بندش کے بعد سے عالمی ادارے کو ایران کی موجودہ جوہری سرگرمیوں کی نگرانی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
