سان فرانسسکو(ویب ڈیسک): سوشل میڈیا کی مایہ ناز کمپنی ‘میٹا’ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جولائی سے فیس بک اور انسٹاگرام فیڈز، ریلز (Reels) اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے جوابات کو مزید ذاتی نوعیت کا بنانے کے لیے صارفین کی بیرونی ویب سائٹس اور ایپس پر ہونے والی سرگرمیوں کا استعمال شروع کر رہی ہے۔
اب تک میٹا یہ ڈیٹا صرف اشتہارات دکھانے کے لیے استعمال کرتا تھا، لیکن اب یہ آپ کے سوشل میڈیا ہوم پیج کو بھی کنٹرول کرے گا۔
کمپنی کے ترجمان امیل وازکیز کے مطابق، اس سے قبل فیس بک اور انسٹاگرام پر آپ کی لائکس، ویوز اور فالوز کی بنیاد پر مواد تجویز کیا جاتا تھا۔ تاہم، اب اگر آپ کسی بیرونی آن لائن اسٹور سے کوئی چیز خریدتے ہیں مثال کے طور پر کیمپنگ کے لیے ٹینٹ تو آپ کو اپنی انسٹاگرام ریلز اور فیس بک فیڈ میں اسی سے متعلق ویڈیوز نظر آنا شروع ہو جائیں گی۔
میٹا نے واضح کیا ہے کہ وہ کوئی نیا ڈیٹا اکٹھا نہیں کر رہا، بلکہ صرف اسی معلومات کا دائرہ کار بڑھا رہا ہے جو مختلف کاروبار اور ویب سائٹس پہلے ہی اشتہارات کے لیے میٹا کو بھیجتی ہیں۔
کمپنی کے مطابق صارفین ‘Activity from other businesses’ کی سیٹنگ میں جا کر اس فیچر کو بند (Disable) بھی کر سکتے ہیں۔ یہ تبدیلی عالمی سطح پر نافذ کی جائے گی، تاہم ابتدائی طور پر یورپی یونین، برطانیہ، برازیل اور جنوبی افریقہ کو اس سے باہر رکھا گیا ہے۔
