Hybrid Neural Interface Could Redefine Future of Brain Treatments

ابتدائی تجربات ایسے مریضوں پر کیے جائیں گے جن کی پہلے سے کوئی بڑی سرجری (مثلاً اسٹروک سرجری) ہو رہی ہو۔

Editor News

کیلیفورنیا(ویب ڈیسک): نیورلنک (Neuralink) کے سابق صدر میکس ہوڈاک کی قائم کردہ کمپنی ‘سائنس کارپوریشن’ (Science Corporation) نے ایک انقلابی بائیو ہائبرڈ برین کمپیوٹر انٹرفیس (BCI) کے انسانی تجربات شروع کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

اس منصوبے میں ییل اسکول آف میڈیسن کے شعبہ نیورو سرجری کے سربراہ ڈاکٹر مراد گنیل بطور سائنسی مشیر شامل ہو گئے ہیں، جو انسانی دماغ میں پہلے سینسر کی تنصیب کی نگرانی کریں گے۔

نیورلنک جیسی کمپنیاں دماغ کے ٹشوز کے اندر دھاتی الیکٹروڈز داخل کرتی ہیں، لیکن ‘سائنس کارپوریشن’ کا ماننا ہے کہ دھاتی پروب طویل مدت میں دماغی خلیات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے حل کے لیے وہ ایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جو تجربہ گاہ میں تیار کردہ زندہ نیورونز (خلیات) کو الیکٹرانک اجزاء کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ نظام روشنی کے ذریعے دماغی خلیات کو متحرک کرے گا اور قدرتی طور پر دماغ کے ساتھ جڑ جائے گا۔

پہلے مرحلے میں بغیر نیورونز والا ایک جدید سینسر استعمال کیا جائے گا جس میں مٹر کے دانے جتنے رقبے پر 520 الیکٹروڈز موجود ہوں گے۔

یہ سینسر دماغ کے اندر داخل کرنے کے بجائے اسے صرف دماغ کی اوپری سطح (Cortex) پر رکھا جائے گا۔

ابتدائی تجربات ایسے مریضوں پر کیے جائیں گے جن کی پہلے سے کوئی بڑی سرجری (مثلاً اسٹروک سرجری) ہو رہی ہو۔

اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ فالج، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں، پارکنسنز (رعشہ) اور مرگی جیسے امراض کے علاج میں سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ذریعے متاثرہ خلیات کو برقی تحریک دے کر صحت یابی کے عمل کو تیز کیا جا سکے گا۔ ماہرین کے مطابق، انسانی تجربات کا باقاعدہ آغاز 2027 تک متوقع ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *