واشنگٹن/اسلام آباد (رائٹرز): پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ اس ناکامی کے بعد امریکی فوج نے آج بروز پیر ایرانی بندرگاہوں کی مکمل بحری ناکہ بندی شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے دو ہفتوں سے جاری نازک جنگ بندی ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ہفتہ اور اتوار کو اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد اب تک کے اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات تھے۔ چھ ہفتوں کی شدید جنگ، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، کے بعد ہونے والی یہ ملاقات عالمی برادری کے لیے امید کی کرن تھی، تاہم جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ناکہ بندی کا آغاز پیر کی صبح 10 بجے (ET) سے ہو چکا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ جو بھی جہاز ایران کو ‘غیر قانونی ٹول ٹیکس’ ادا کرے گا، اسے بین الاقوامی سمندروں میں راستہ نہیں دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ “اگر کسی ایرانی نے ہم پر یا پرامن جہازوں پر گولی چلائی، تو اسے نیست و نابود (BLOWN TO HELL) کر دیا جائے گا۔”
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ‘اسلام آباد ایم او یو’ کے بالکل قریب تھے لیکن امریکی ہٹ دھرمی آڑے آگئی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے امریکی عوام کو مہنگے پیٹرول کی نوید سناتے ہوئے کہا کہ جلد ہی امریکی $5 فی گیلن پیٹرول کو بھی ترس جائیں گے۔
مذاکرات کی ناکامی کی خبر عام ہوتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس مندی کا شکار ہو گئی ہیں۔
