واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آئندہ دو روز میں پاکستان میں دوبارہ شروع ہونے کا قوی امکان ہے، جو خطے کی سیاست میں ایک بڑے موڑ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “اگلے دو دنوں میں کچھ بہت اہم ہونے والا ہے، لہٰذا آپ کی نظریں پاکستان پر ہونی چاہئیں”۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس وقت امریکہ کا جھکاؤ پاکستان کی جانب پہلے سے کہیں زیادہ ہے اور پاکستان اس مذاکراتی عمل میں ایک “مرکزی کھلاڑی” کے طور پر ابھرا ہے۔
صدر ٹرمپ نے پاکستان کی فوجی قیادت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ “فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے، وہ شاندار کام کر رہے ہیں”۔ ان کے بقول، پاکستان کی مضبوط قیادت ہی وہ وجہ ہے جس نے امریکہ اور ایران جیسے فریقین کو ایک بار پھر اسلام آباد کی جانب متوجہ کیا ہے۔
امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے سے تناؤ میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال آئندہ 48 گھنٹوں میں مکمل طور پر واضح ہو جائے گی، تاہم پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی یہ پیش رفت عالمی امن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
