Global Oil Prices Rebound After Sharp Decline Amid US-Iran Peace Talks

ماہرین کے مطابق اگر معاہدہ ہو بھی جائے، تو سپلائی بحال ہونے میں ہفتوں لگ سکتے ہیں جس کی وجہ سے گرمیوں میں طلب پوری کرنے کے لیے ذخائر پر دباؤ رہے گا۔

Editor News

ٹوکیو(ویب ڈیسک): عالمی منڈی میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر تک کا اضافہ دیکھا گیا، جو گزشتہ روز ہونے والی بڑی گراوٹ کے بعد ایک ریباؤنڈ (Rebound) ہے۔ سرمایہ کار اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے کے امکانات اور اس کے عالمی سپلائی پر اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برینٹ کروڈ کے سودے 88 سینٹ اضافے کے ساتھ 102.15 ڈالر فی بیرل پر ہوئے، جبکہ امریکی خام تیل (WTI) 1.12 ڈالر اضافے کے ساتھ 96.20 ڈالر پر پہنچ گیا۔

بدھ کے روز ان قیمتوں میں 7 فیصد کمی دیکھی گئی تھی، جس کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی امیدیں تھیں۔ تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ “براہِ راست مذاکرات کے لیے ابھی وقت قبل از وقت ہے”، قیمتیں دوبارہ مستحکم ہونا شروع ہو گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مختصر یاداشت (Memorandum) پر اتفاق ہونے کے قریب ہے جس سے باقاعدہ جنگ کا خاتمہ ہو سکتا ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) جیسے اہم مسائل پر تاحال غیر یقینی برقرار ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر معاہدہ ہو بھی جائے، تو سپلائی بحال ہونے میں ہفتوں لگ سکتے ہیں جس کی وجہ سے گرمیوں میں طلب پوری کرنے کے لیے ذخائر پر دباؤ رہے گا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *