Election Fraud Debate Sparks On-Air Clash Between Trump and NBC Host

۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ مستقبل میں ایک فالو اپ انٹرویو دینے پر رضامند ہو گئے ہیں

Editor News

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘این بی سی نیوز’ کے مشہور پروگرام ‘میٹ دی پریس’ (Meet the Press) کو دیا جانے والا اپنا حالیہ انٹرویو اس وقت اچانک ختم کر دیا جب شو کی میزبان کرسٹن ویلکر کے ساتھ 2020 کے صدارتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے دعووں پر ان کی تلخ کلامی ہو گئی۔ یہ انٹرویو وسکونسن ریاست میں بارش کے دوران ریکارڈ کیا جا رہا تھا، جو کہ مڈ ٹرم (وسطی) انتخابات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم سوئنگ اسٹیٹ مانی جاتی ہے۔

انٹرویو کے دوران جب اینکر نے ٹرمپ کے انتخابی دھاندلی کے دعووں پر سوالات اٹھائے تو صدر ٹرمپ نے این بی سی، اے بی سی، سی بی ایس اور سی این این جیسے بڑے امریکی میڈیا نیٹ ورکس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے لائیو مائیک اتارتے ہوئے اینکر سے کہا: “تم ایک یکطرفہ اور کرپٹ نیٹ ورک ہو۔ چلو اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں کیونکہ میں اب بہت برداشت کر چکا ہوں۔ شکریہ ڈارلنگ، تمہارا وقت اچھا گزرے۔”

اینکر کرسٹن ویلکر نے صدر سے انٹرویو جاری رکھنے کی درخواست کی اور یاد دلایا کہ وہ اس انٹرویو کے لیے خصوصی طور پر وسکونسن سفر کر کے آئی ہیں، لیکن ٹرمپ نے انکار کرتے ہوئے کہا: “میں تمہارے ساتھ یہاں ایک گھنٹے سے وقفے وقفے سے ہونے والی بارش میں بیٹھا ہوا ہوں اور تمہیں کافی وقت دے چکا ہوں۔ تمہیں اپنے پریس کے رویے کو سیدھا کرنا چاہیے۔” انہوں نے اینکر کو ‘بیوقوف یا کرپٹ’ تک کہہ ڈالا۔

بات چیت میں تلخی اس وقت بڑھی جب گفتگو کیلیفورنیا میں ووٹوں کی گنتی کے طریقہ کار کی طرف مڑی۔ کرسٹن ویلکر نے جب کہا کہ “کیلیفورنیا میں ووٹوں کی گنتی اسی طرح (قانونی طریقے سے) ہوتی ہے،” تو ٹرمپ نے فوراً جواب دیا: “کیا تم جانتی ہو وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ کیونکہ وہ انتخابات میں دھاندلی اور چوری کر رہے ہیں۔” ویلکر نے جب ان سے شواہد مانگے تو ٹرمپ نے کہا کہ اس کے ‘بے پناہ ثبوت’ موجود ہیں، جبکہ اینکر نے موقف اپنایا کہ صدر نے اب تک کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا۔

انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ کی اس متنازعہ تجویز پر بھی بات ہوئی جس کے تحت وہ بائیڈن انتظامیہ کے اقدامات سے مبینہ طور پر متاثر ہونے والے افراد کو 1.8 ارب ڈالر کا معاوضہ دینا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے اس فنڈ کا دفاع کرتے ہوئے کہا: “اگر یہ میرے بس میں ہوتا تو میں ان لوگوں کو اتنی رقم دیتا جس کے وہ حقدار ہیں۔ یہ ویپنائزیشن فنڈ (Weaponisation Fund) ایک بہترین آئیڈیا ہے اور بہت سے دیگر ریپبلکنز بھی اس کے حامی ہیں۔”

اس ہنگامہ خیز نشریات کے بعد، کرسٹن ویلکر نے واشنگٹن اسٹوڈیو کو بتایا کہ انہوں نے 6 جون کو صدر ٹرمپ سے دوبارہ بات کی ہے جہاں دونوں نے خراب موسم کے باوجود انٹرویو کے چیلنجز کو تسلیم کیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ مستقبل میں ایک فالو اپ انٹرویو دینے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *