5 جون
نیویارک / اسلام آباد (ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ پر خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کو ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رپورٹنگ کے دورانیے میں پاک بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے 20 سے زائد مراسلات سلامتی کونسل کے علم میں لائے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مئی 2025 میں کونسل کے بند کمرہ اجلاسوں کا اہم حصہ رہا۔
پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کے ارکان کو یاد دلایا کہ جموں و کشمیر کا تنازع گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور عالمی ادارہ مسلسل اس معاملے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ مئی 2025 میں اس ایجنڈے کے تحت ہونے والے بند کمرہ مشاورتی اجلاس (Closed Consultations) اس حقیقت کی توثیق کرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کشمیر کو اب بھی ایک حل طلب اور عالمی سطح کا متنازع خطہ تسلیم کرتی ہے۔
حقِ خودارادیت اور پائیدار امن کا راستہ:
سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے قومی بیان (National Statement) میں پاکستان کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں مستقل اور پائیدار امن کا خواب اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک جموں و کشمیر کے تنازع کا کوئی منصفانہ حل تلاش نہیں کر لیا جاتا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ حل سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
پاکستانی سفیر نے اپنے خطاب کے آخر میں عالمی برادری پر زور دیا کہ کشمیری عوام کو ان کا وہ بنیادی حقِ خودارادیت (Right to Self-Determination) دیا جائے جس کا وعدہ خود سلامتی کونسل اور پوری دنیا نے ان سے کر رکھا ہے، اور اس دیرینہ بحران کے حل کے بغیر خطے میں ترقی ممکن نہیں ہے۔
