Trump Says Military Operations Near Completion as Tensions with Iran Escalate

انہوں نے ٹرمپ پر جنگی پالیسی میں تضاد کا الزام بھی لگایا۔ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک نے بھی فوجی حل کے بجائے سفارت کاری پر زور دیا ہے

Editor News

واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اپنے 34 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے، جس کے عالمی معیشت اور علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

گزشتہ رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن “تکمیل کے قریب” ہے، تاہم انہوں نے جنگ ختم کرنے کی کسی حتمی تاریخ یا آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنے کی حکمتِ عملی کا ذکر نہیں کیا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکہ اگلے دو سے تین ہفتوں میں اپنی فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لائے گا تاکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ ایرانی فوج کمزور ہو چکی ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے امریکی صدر کے موقف کو “غیر حقیقت پسندانہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو طاقت کے زور پر کھلوانے کی کوششیں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ پر جنگی پالیسی میں تضاد کا الزام بھی لگایا۔ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک نے بھی فوجی حل کے بجائے سفارت کاری پر زور دیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں تہران میں واقع ملک کے قدیم ترین طبی تحقیقی ادارے (Pasteur Institute) کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے ادویات کی تیاری اور تحقیقی کام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جواب میں ایران نواز گروپوں کی جانب سے شمالی اسرائیل پر درجنوں راکٹ فائر کیے گئے ہیں، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *