نیویارک(ویب ڈیسک): نیویارک سٹی کے محکمہ صحت نے “ورلڈ ٹی بی ڈے” کے موقع پر نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جس کے مطابق سال 2025 میں تپِ دق (ٹی بی) کے 743 کیسز رپورٹ ہوئے، جو کہ 2024 کے مقابلے میں 11 فیصد کم ہیں۔
تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ کیسز کی مجموعی تعداد اب بھی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس کے لیے مسلسل نگرانی اور جدید اقدامات کی ضرورت ہے۔
محکمہ صحت نے ٹی بی کے بچاؤ کے لیے ایک نیا طریقہ علاج شروع کیا ہے جس نے علاج کے دورانیے کو 3 سے 9 ماہ سے کم کر کے صرف 1 ماہ کر دیا ہے۔ 2025 میں 337 مریضوں نے یہ کورس شروع کیا۔
برونکس، بروکلین اور کوئینز میں قائم چیسٹ سینٹرز میں ٹی بی کی تشخیص اور علاج بالکل مفت فراہم کیا جا رہا ہے، چاہے مریض کی امیگریشن کی صورتحال یا انشورنس کچھ بھی ہو۔
عارضی پناہ گاہوں (Shelters) اور ہاؤسنگ سائٹس پر 30,000 سے زائد افراد کی موبائل ایکس رے اور ٹیسٹنگ کے ذریعے اسکریننگ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 25 فیصد سے زائد کیسز 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں پائے گئے، جبکہ مقامی سطح پر سیاہ فام اور ہسپانوی کمیونٹیز اس مرض سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔
ہیلتھ کمشنر ڈاکٹر الیسٹر مارٹن نے زور دیا کہ ٹی بی اب بھی دنیا بھر میں ایک مہلک متعدی مرض ہے، لیکن نیویارک سٹی اسے جڑ سے ختم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور کمیونٹی پارٹنرشپ کا استعمال کر رہا ہے۔
