FIFA Explains Refillable Bottle Ban Amid Safety and Security Concerns

۔ فیفا کا کہنا ہے کہ اس بار اسٹیڈیم کے اندر شائقین کے لیے مسٹنگ اسٹیشنز، پنکھے، ہائیڈریشن اسٹیشنز اور کولنگ ٹینٹس دستیاب ہوں گے،

Editor News

لاس اینجلس (اے ایف پی):فیفا نے ورلڈ کپ میچز کے دوران شائقین کو اسٹیڈیم کے اندر “نرم پلاسٹک” (Soft, plastic) کی ایک ڈسپوزایبل پانی کی بوتل لانے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ دوبارہ استعمال ہونے والی (Refillable) بوتلوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کے بعد دنیا بھر میں ہونے والی شدید تنقید اور عوامی دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے۔

ورلڈ کپ کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہیمو شرگی (Heimo Schirgi) نے فیفا کے آفیشل ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ پر جاری ایک ویڈیو بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا: “امریکہ اور کینیڈا میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کسی بھی میچ میں شائقین کو 20 اونس (590 ملی لیٹر) کی ایک نرم پلاسٹک والی، فیکٹری سے سیل شدہ ڈسپوزایبل پانی کی بوتل ساتھ لانے کی اجازت ہوگی۔”

فیفا کا یہ نیا اعلان، جسے انہوں نے اپنی واٹر بوتل پالیسی کی “وضاحت” قرار دیا ہے، اس کے محض دو دن بعد سامنے آیا ہے جب فیفا نے ری فل ایبل بوتلوں پر مکمل پابندی کا اعلان کیا تھا۔ اسٹیڈیم کے ضابطہ اخلاق میں اس اچانک تبدیلی پر شائقین نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا تھا، کیونکہ اس فیصلے کے بعد پیاسے شائقین کو اسٹیڈیم کے اندر مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا۔

فیفا نے پہلے اس پابندی کا جواز سیکیورٹی اور کھلاڑیوں و تماشائیوں کے تحفظ کو قرار دیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ چوٹ یا خطرے سے بچا جا سکے۔ فیفا نے ‘اے ایف پی’ کو دیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ کئی اسٹیڈیمز میں پہلے ہی حفاظتی وجوہات کی بنا پر باہر سے بوتلیں لانے پر پابندی ہے اور فیفا اسی اصول کو ٹورنامنٹ کے تمام اسٹیڈیمز پر لاگو کر رہا ہے۔

ہیمو شرگی نے ویڈیو میں واضح کیا کہ سخت مٹیریل سے بنی دوبارہ استعمال ہونے والی (Hard-sided, reusable) بوتلیں اب بھی سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ممنوع ہوں گی۔ انہوں نے ویڈیو میں ان بوتلوں کی مثالیں بھی دکھائیں جن کی اجازت ہوگی اور جن کی نہیں ہوگی۔

ماہرینِ موسمیات نے پہلے ہی انتباہ جاری کیا ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں کھلے آسمان تلے بنے اسٹیڈیمز میں شائقین کو شدید گرمی کی لہر (Extreme Heat) کے باعث صحت کے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گزشتہ ماہ ‘ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن’ ریسرچ گروپ کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، ورلڈ کپ کے 104 میچوں میں سے کم از کم 26 میچز ایسے حالات میں کھیلے جانے کا امکان ہے جہاں ‘ویٹ بلب گلوبل ٹمپریچر’ (WBGT) 26 ڈگری سے تجاوز کر جائے گا، جو انسانی جسم پر گرمی کے شدید دباؤ کو ناپنے کا ایک پیمانہ ہے۔

گزشتہ سال امریکہ میں ہونے والے ‘فیفا کلب ورلڈ کپ’ کے دوران بھی شائقین نے شدید گرمی کی شکایت کی تھی، جہاں انہیں اسٹیڈیم میں پانی لے جانے سے روک دیا گیا تھا۔ فیفا کا کہنا ہے کہ اس بار اسٹیڈیم کے اندر شائقین کے لیے مسٹنگ اسٹیشنز، پنکھے، ہائیڈریشن اسٹیشنز اور کولنگ ٹینٹس دستیاب ہوں گے، جبکہ اسٹیڈیم کے اندر پانی کی بوتلیں عام ایونٹس کے نرخوں پر ہی فروخت کی جائیں گی۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *