جنیوا (ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) نے زمین کی آب و ہوا کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق زمین کا موسمیاتی نظام انسانی تاریخ میں پہلے کبھی اتنا غیر متوازن نہیں رہا جتنا کہ اب ہے۔
ڈبلیو ایم او کی ڈپٹی ایگزیکٹو سیکرٹری کو بیریٹ کے مطابق، 2015 سے 2025 تک کا عرصہ ریکارڈ پر موجود گرم ترین 11 سالوں پر مشتمل ہے۔
گزشتہ سال عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 1.43°C زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سمندری حدت (Ocean Heat) نے بھی تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔
گرین ہاؤس گیسز کا ریکارڈ: سال 2024 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ جیسی مہلک گیسوں کی مقدار فضا میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اور 2025 میں بھی یہ اضافہ مسلسل جاری ہے۔
سائنسی افسر جان کینیڈی نے وضاحت کی کہ عام طور پر سورج سے آنے والی توانائی اور زمین سے واپس جانے والی توانائی برابر ہونی چاہیے، لیکن گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سے اب توانائی زمین کے نظام میں قید ہو رہی ہے۔ اس اضافی توانائی کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کر رہے ہیں، جس سے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں اور سطح سمندر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سمندروں کے گرم ہونے اور سطح سمندر بلند ہونے سے دنیا کی 11 فیصد آبادی، جو ساحلی علاقوں میں مقیم ہے، براہِ راست خطرے میں ہے۔ اقوامِ متحدہ نے زور دیا ہے کہ قیمتی جانوں کے تحفظ کے لیے قبل از وقت وارننگ کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
