نیویارک (ویب ڈیسک): امریکی وفاقی استغاثہ نے ایک ایسے گروہ کا بھانڈا پھوڑا ہے جو جعلی امیگریشن جج، وکیل اور قانون نافذ کرنے والے افسران بن کر معصوم تارکینِ وطن کو لوٹ رہا تھا۔ اس گروہ کی دھوکہ دہی کی وجہ سے ایک خاتون تقریباً ملک بدری (Deportation) کے دہانے پر پہنچ گئی تھیں۔
وفاقی فردِ جرم کے مطابق ملزمان میں ڈینییلا الیگزینڈرا، مارلن یولیٹزا، جہان سیبسٹین اور الیگزینڈرا پیٹریشیا شامل ہیں۔ پانچواں ملزم تاحال مفرور ہے۔
ملزمان نے بغیر لائسنس کے ایک فرضی لاء فرم چلائی اور متاثرین سے ایک لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم بٹوری۔
گروہ نے نہ صرف جعلی دستاویزات تیار کیں بلکہ باقاعدہ “جعلی عدالت” بھی لگائی جہاں وہ جج اور وکیل بن کر سیاسی پناہ (Asylum) کے انٹرویوز اور عدالتی کارروائیاں کرتے تھے۔
ملزمان نے متاثرین کو یقین دلایا کہ ان کے کیسز حل ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی اصل عدالتی پیشیوں پر نہ جا سکے اور ایک متاثرہ خاتون کی لاعلمی میں ان کی ملک بدری کے احکامات جاری ہو گئے۔
امریکی اٹارنی نوسیلا کا کہنا ہے کہ ملزمان نے نظامِ انصاف کی سالمیت کو نقصان پہنچایا اور کمزور لوگوں کو نشانہ بنایا۔ ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے، تاہم جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
