ریاض(ویب ڈیسک): سعودی فرمانروا کی خصوصی ہدایات پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے باہم جڑے ہوئے بچے، سفیان اور یوسف، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پیر کے روز ریاض پہنچ گئے۔ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کے بعد بچوں کو فوری طور پر کنگ عبداللہ سپیشلسٹ چلڈرن ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
بچوں کی علیحدگی کے پیچیدہ آپریشن کے لیے معروف ماہر جراح اور میڈیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ اس کیس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ہسپتال منتقلی کے بعد بچوں کے ضروری طبی ٹیسٹ اور معائنہ شروع کر دیا گیا ہے تاکہ سرجری کے اگلے مراحل کا تعین کیا جا سکے۔
ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے اس موقع پر کہا کہ سعودی عرب ان پیچیدہ آپریشنز میں اپنی مہارت کی بدولت دنیا بھر میں ایک عالمی رہنما بن چکا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق تاریخی ریکارڈ: 1990 سے اب تک سعودی عرب 28 ممالک کے 67 جڑے ہوئے بچوں کو کامیاب آپریشن کے ذریعے علیحدہ کر چکا ہے۔35 برسوں پر محیط یہ سفر دنیا بھر کے متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی علامت بن گیا ہے۔
پاکستانی بچوں کے والدین نے سعودی قیادت کی جانب سے فوری ردعمل اور شاندار مہمان نوازی پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو انسانیت کی خدمت کی اعلیٰ مثال قرار دیا۔
