واشنگٹن(ویب ڈیسک): صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے قانونی اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اپنی سخت گیر مہم میں توسیع کرتے ہوئے امیگریشن افسران کو نئے اختیارات دے دیے ہیں۔ اب امریکہ میں مقیم وہ قانونی پناہ گزین جو ‘گرین کارڈ’ کے منتظر ہیں، انہیں “دوبارہ جانچ پڑتال” (Re-vetting) کے 1لیے حراست میں لیا جا سکے گا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کی جانب سے جاری کردہ 18 فروری کے میمو کے مطابق پناہ گزینوں کو امریکہ آمد کے ایک سال بعد “معائنے اور امتحان” کے لیے دوبارہ سرکاری تحویل میں آنا ہوگا۔
اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایک سال بعد ان کی دوبارہ سیکیورٹی کلیئرنس کی جائے تاکہ عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پالیسی 2010 کے اس میمو کو ختم کرتی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ گرین کارڈ کے حصول میں تاخیر یا ناکامی پناہ گزین کی حراست یا ملک بدری کی بنیاد نہیں بن سکتی۔
اس فیصلے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ AfghanEvac کے صدر شان وان ڈائیور نے اسے طویل مدتی پالیسی کا “لاپروہ خاتمہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہے جنہیں امریکہ نے تحفظ کا وعدہ دے کر داخل کیا تھا۔ ہیبرا امیگرنٹ ایڈ سوسائٹی (HIAS) کے مطابق اس فیصلے سے ان ہزاروں لوگوں کو شدید نقصان پہنچے گا جو تشدد اور ظلم و ستم سے بھاگ کر یہاں پناہ لینے آئے تھے۔
دوسری جانب، کیلیفورنیا میں ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی اجتماعی حراستی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔
جج سن شائن سائیکس نے ریمارکس دیے کہ انتظامیہ کے اقدامات “بے شرمی” پر مبنی ہیں اور یہ غیر آئینی طرزِ عمل کی حدود کو عبور کر چکے ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ تارکینِ وطن کو بانڈ (ضمانت) پر رہائی کا حق حاصل ہونا چاہیے اور انہیں بغیر سماعت کے حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے دورِ صدارت میں ‘آئی سی ای’ کی حراست میں موجود افراد کی تعداد رواں ماہ 68,000 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 75 فیصد زیادہ ہے۔ ہارڈ لائن امیگریشن ایجنڈا 2024 کے انتخابات میں ٹرمپ کی کامیابی میں ایک اہم محرک ثابت ہوا تھا۔
