واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکہ میں محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جزوی بندش (شٹ ڈاؤن) کے 40 ویں روز، ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکار پیر سے ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA) کی معاونت کا آغاز کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے بارڈر زار (Czar) ٹام ہومن نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئی سی ای کے اہلکار براہ راست ایکس رے مشینوں یا اسکریننگ کے عمل میں شامل نہیں ہوں گے کیونکہ وہ اس کام کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہیں۔ تاہم، وہ ایگزٹ پوائنٹس (راستہ خروج) کی نگرانی جیسے فرائض سنبھالیں گے تاکہ ٹی ایس اے کے تربیت یافتہ اہلکار اسکریننگ کے عمل پر توجہ دے سکیں اور مسافروں کی طویل لائنوں کو کم کیا جا سکے۔
شٹ ڈاؤن کے باعث تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ٹی ایس اے کے سینکڑوں ملازمین ملازمتیں چھوڑ چکے ہیں یا چھٹیوں پر ہیں، جس کے نتیجے میں ہیوسٹن اور فلاڈیلفیا جیسے بڑے ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی چیک پوائنٹس بند کرنا پڑے ہیں۔ ٹام ہومن کے مطابق، آئی سی ای کے اہلکار ان ہوائی اڈوں کو ترجیح دیں گے جہاں مسافروں کا انتظار کا وقت سب سے زیادہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹام ہومن کا بیان وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی کے بیان سے مختلف ہے، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ آئی سی ای اہلکار سیکیورٹی مشینیں چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں اور وہ اسکریننگ میں مدد کر سکتے ہیں۔ تاہم، ہومن نے زور دیا کہ یہ اقدام خاص طور پر ٹی ایس اے کے عملے پر بوجھ کم کرنے اور مسافروں کی سہولت کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
آئی سی ای کے ڈائریکٹر ٹوڈ لیونز اور ٹی ایس اے ایڈمنسٹریٹر ہا نگوین میک نیل اس آپریشنل پلان کو حتمی شکل دے رہے ہیں تاکہ پیر سے باقاعدہ کام شروع کیا جا سکے۔
