Elon Musk’s company xAI is facing a severe internal crisis

کمپنی کی تیزی سے ترقی کے پیشِ نظر ڈھانچے میں تبدیلی ناگزیر تھی

Editor News

سان فرانسسکو (ویب ڈیسک): دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت (AI) کی کمپنی xAI اس وقت شدید اندرونی بحران اور تنظیمی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، اس ہفتے مزید دو اہم شریک بانیوں (Co-founders) کے استعفے کے بعد، کمپنی کے اصل 12 بانیوں میں سے 6 اب ادارے کا حصہ نہیں رہے۔

منگل کی رات ایک اہم میٹنگ کے دوران ایلون مسک نے ان روانگیوں کو “کارکردگی” کے بجائے “فٹ” (Fit) کا مسئلہ قرار دیا۔ مسک کا کہنا تھا کہ کمپنی اب ایک بڑے پیمانے پر پہنچ چکی ہے جہاں اسے مختلف مہارتوں کے حامل افراد کی ضرورت ہے۔ تاہم، بدھ کو اپنی ایک پوسٹ میں مسک نے واضح کیا کہ یہ روانگیاں مکمل طور پر رضاکارانہ نہیں تھیں۔ انہوں نے لکھا کہ “کمپنی کی تیزی سے ترقی کے پیشِ نظر ڈھانچے میں تبدیلی ناگزیر تھی، جس کی وجہ سے کچھ لوگوں سے راستے جدا کرنا پڑے۔”

نئے منصوبے اور ٹیم کی روانگی استعفیٰ دینے والے اہم ناموں میں یوہوئی (ٹونی) وو (ریز ننگ لیڈ) اور جیمی با (تحقیق اور سیفٹی لیڈ) شامل ہیں۔ ٹونی وو نے اپنے پیغام میں ایک چھوٹی ٹیم کے ساتھ “پہاڑ ہلانے” اور نئی شروعات کا اشارہ دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ استعفیٰ دینے والے کئی انجینئرز نے مل کر ایک نیا وینچر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جو مسک کے لیے ایک بڑا مقابلہ ثابت ہو سکتا ہے۔

عدالتی کارروائی اور مستقبل کے اہداف یہ بحران ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب xAI کو اپنے چیٹ بوٹ Grok کے ذریعے غیر اخلاقی ڈیپ فیک تصاویر کی تیاری پر سخت قانونی دباؤ کا سامنا ہے۔ فرانسیسی حکام نے حال ہی میں اس سلسلے میں ‘X’ کے دفاتر پر چھاپہ بھی مارا ہے۔

ان تمام تنازعات کے باوجود، مسک نے کمپنی کے مستقبل کا نقشہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاند پر ‘Mass Drivers’ (بڑے لانچرز) لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور xAI کو اسپیس ایکس (SpaceX) کے ساتھ ضم کر کے خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *