ٹیکنالوجی کی دنیا میں اربوں ڈالرز کی جنگ: ایمیزون اور گوگل آرٹیفیشل انٹیلجنس پر خرچ کرنے میں سب سے آگے

، بڑی ٹیک کمپنیاں اس فلسفے پر عمل پیرا ہیں کہ جس کے پاس سب سے زیادہ 'کمپیوٹ پاور' ہوگی، وہی مستقبل کا فاتح ہوگا۔

Editor News

نیویارک (ویب ڈیسک): مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ اب صرف بہترین سافٹ ویئر بنانے تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ دنیا کے سب سے مہنگے ڈیٹا سینٹرز اور انفراسٹرکچر تعمیر کرنے کی دوڑ بن چکی ہے۔

حالیہ مالیاتی رپورٹس کے مطابق، بڑی ٹیک کمپنیاں اس فلسفے پر عمل پیرا ہیں کہ جس کے پاس سب سے زیادہ ‘کمپیوٹ پاور’ ہوگی، وہی مستقبل کا فاتح ہوگا۔

ایمیزون: 200 ارب ڈالرز کے ساتھ سرِفہرست ایمیزون نے اپنے حالیہ اعلان میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کمپنی نے 2026 کے لیے اپنے مجموعی اخراجات (Capex) کا تخمینہ 200 ارب ڈالرز لگایا ہے، جو کہ 2025 کے 131.8 ارب ڈالرز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

یہ رقم صرف AI پر ہی نہیں، بلکہ چپس، روبوٹکس اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر بھی خرچ کی جائے گی۔ ایمیزون کے پاس ایک وسیع فزیکل نیٹ ورک موجود ہے جسے اب جدید ترین روبوٹکس کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

گوگل اور مائیکروسافٹ بھی دوڑ میں شامل گوگل (الفابیٹ) اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، جس نے 2026 کے لیے 175 سے 185 ارب ڈالرز کے اخراجات کا تخمینہ پیش کیا ہے۔ دیگر بڑی کمپنیوں کی صورتحال درج ذیل ہے:

اگرچہ باقاعدہ اعلان نہیں ہوا، لیکن موجودہ رفتار کے مطابق یہ تخمینہ 150 ارب ڈالرز کے قریب ہے۔

میٹا (فیس بک): 115 سے 135 ارب ڈالرز۔

اوریکل: 50 ارب ڈالرز کے ساتھ اس دوڑ میں فی الحال پیچھے نظر آتی ہے۔

سرمایہ کاروں کی تشویش اور اسٹاک مارکیٹ پر اثرات ٹیک کمپنیوں کے اس بے دریغ خرچ نے وال اسٹریٹ (Wall Street) کے سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ روایتی طور پر کاروبار کم خرچ کر کے زیادہ منافع کمانے سے کامیاب ہوتے ہیں، لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے۔

جیسے ہی کمپنیوں نے ان خطیر اخراجات کا اعلان کیا، ان کے اسٹاک کی قیمتوں میں گراوٹ دیکھی گئی۔

سرمایہ کاروں کا دباؤ: مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیہ ناڈیلا سمیت دیگر سربراہان پر دباؤ ہے کہ وہ ان اخراجات کو جواز فراہم کریں۔

مستقبل میں ہائی اینڈ کمپیوٹنگ ایک نایاب وسیلہ بن جائے گا، اور صرف وہی کمپنیاں زندہ رہیں گی جن کا اپنا سپلائی چین اور ڈیٹا سینٹرز ہوں گے۔ تاہم، چیلنج یہ ہے کہ ایمیزون اور مائیکروسافٹ جیسی مستحکم کلاؤڈ سروسز رکھنے والی کمپنیوں کے لیے بھی یہ اعداد و شمار اتنے زیادہ ہیں کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

آنے والے وقت میں، ‘بگ ٹیک’ کمپنیوں پر یہ دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے AI عزائم کی اصل قیمت کو چھپائیں یا پھر جلد از جلد ان اخراجات کو منافع میں بدل کر دکھائیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *