نیویارک: جون 2025 میں نافذ ہونے والے فیئر ایکٹ (FARE Act) کے بعد سے اب تک 1,000 سے زائد شکایات کا ازالہ کیا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں کرایہ داروں کو غیر قانونی طور پر وصول کی گئی رقم واپس کی جا رہی ہے۔
کونسل ممبر چی اوسے (Chi Ossé) کے ترجمان کے مطابق، اب تک ان کرایہ داروں کو 7,000 ڈالر واپس کروائے گئے ہیں جن سے غیر قانونی طور پر بروکر فیس وصول کی گئی تھی۔
نیویارک سٹی ڈیپارٹمنٹ آف کنزیومر اینڈ ورکر پروٹیکشن (DCWP) کو موصول ہونے والی 1,400 شکایات میں سے اب تک 50 رئیل اسٹیٹ بروکرز، مکان مالکان اور پراپرٹی منیجرز کو سمن جاری کیے جا چکے ہیں۔
سخت نگرانی کے نتیجے میں ہفتہ وار شکایات کی تعداد 50 سے کم ہو کر 25 رہ گئی ہے۔
فیئر ایکٹ (FARE Act) کیا ہے؟
اس قانون کے تحت:
اگر مکان مالک نے اپنی طرف سے کوئی ایجنٹ یا بروکر رکھا ہے، تو اس کی فیس کا بوجھ کرایہ دار پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
کرایہ دار صرف اسی صورت میں بروکر فیس ادا کرنے کا پابند ہے اگر اس نے خود اپنی مدد کے لیے بروکر کی خدمات حاصل کی ہوں۔
پراپرٹی منیجرز اور بروکرز کے لیے لازمی ہے کہ وہ تمام فیسیں لسٹنگ اور معاہدے میں واضح طور پر پہلے ہی ظاہر کریں۔
“محکمہ (DCWP) نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بروکر فیس اور کرائے میں شامل دیگر چھپے ہوئے اخراجات (Junk Fees) کو ختم کرنے کے لیے اپنے تمام اختیارات استعمال کرے گا۔ ہم شہریوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ایسی خلاف ورزیوں کی مکمل دستاویزات کے ساتھ رپورٹ کریں۔”
اگر کسی کرایہ دار کو شک ہے کہ اس سے غیر قانونی طور پر فیس لی جا رہی ہے، تو وہ DCWP کی ویب سائٹ پر جا کر “File a Consumer Complaint” کے سیکشن میں اپنی شکایت درج کروا سکتا ہے۔
