اطالوی فیشن لیجنڈ ویلنٹینو گاراوانی 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

اپنی زندگی پر بننے والی ڈاکیومنٹری میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ناقابلِ بدل ہیں، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا:

Editor News

دنیا کی نامور اور باوقار خواتین کے لیے دہائیوں تک شاندار ملبوسات تیار کرنے والے اطالوی فیشن لیجنڈ ویلنٹینو گاراوانی 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

ان کے فاؤنڈیشن کے مطابق ویلنٹینو نے روم میں اپنی رہائش گاہ پر اہلِ خانہ کی موجودگی میں آخری سانس لی۔ اس حوالے سے انسٹاگرام پر جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ اپنے خاندان کی محبت میں گھرے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے۔

ویلنٹینو 1932 میں اٹلی کے شمالی شہر ووگیرا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پیرس کے ہاؤٹ کاؤچر اسٹوڈیوز میں فیشن کی تربیت حاصل کی اور 1959 میں روم میں اپنے فیشن ہاؤس کی بنیاد رکھی۔ وہ جلد ہی اپنے خاص سرخ رنگ کے ملبوسات کی وجہ سے پہچانے جانے لگے، جو بعد ازاں فیشن انڈسٹری میں “ویلنٹینو ریڈ” کے نام سے مشہور ہوا۔

1960 میں ان کی ملاقات جیانکارلو جیامیٹی سے ہوئی، جو بعد میں ان کے طویل المدتی بزنس پارٹنر اور 12 برس تک رومانوی ساتھی بھی رہے۔ دونوں نے مل کر ویلنٹینو ایس پی اے کو ایک عالمی شہرت یافتہ برانڈ میں تبدیل کیا۔

ویلنٹینو کے ابتدائی مشہور گاہکوں میں ہالی وڈ اداکارہ الزبتھ ٹیلر شامل تھیں، جن سے ان کی ملاقات 1960 کی دہائی کے اوائل میں فلم “کلیوپیٹرا” کی شوٹنگ کے دوران روم میں ہوئی۔ ان کے دیگر معروف مداحوں میں بیگم آغا خان، بیلجیئم کی ملکہ پاؤلا، آڈری ہیپ برن، جون کولنز اور جیکولین کینیڈی شامل تھیں، جنہوں نے 1968 میں ارسطو اوناسس سے شادی کے موقع پر ویلنٹینو کا لباس زیب تن کیا۔

وقت کے ساتھ ویلنٹینو کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔ 1970 کی دہائی میں انہوں نے نیویارک میں طویل عرصہ گزارا جہاں ان کے قریبی دوستوں میں آرٹسٹ اینڈی وارہول اور ووگ کی ایڈیٹر ڈیانا وری لینڈ شامل تھیں۔ 1990 کی دہائی میں وہ کلاڈیا شیفر اور ناؤمی کیمبل جیسی سپر ماڈلز کے پسندیدہ ڈیزائنر بن گئے۔

ویلنٹینو کے ملبوسات ریڈ کارپٹ پر بھی باقاعدگی سے نظر آتے رہے۔ آسکر ایوارڈز میں جین فونڈا، جولیا رابرٹس، جینیفر لوپیز، کیٹ بلانشیٹ اور این ہیتھاوے سمیت کئی اداکاراؤں نے ان کے ڈیزائن کردہ گاؤنز زیب تن کیے، جن میں سے کئی اداکارائیں انہی تقریبات میں آسکر ایوارڈز جیتنے میں بھی کامیاب ہوئیں۔

اپنے نفیس انداز، سن ٹین رنگت اور ہمیشہ سلیقے سے سنوارے گئے بالوں کے ساتھ ویلنٹینو ایک مکمل اطالوی جینٹل مین کی علامت تھے۔ انہیں چینی نوادرات جمع کرنے کا شوق تھا اور وہ پھولوں اور باغبانی سے گہری محبت رکھتے تھے۔ انہوں نے 1995 میں پیرس کے قریب 17ویں صدی کا تاریخی شاتو وائیڈویل خریدا، جہاں وہ اکثر وقت گزارتے تھے۔ ان کے دنیا کے مختلف شہروں میں متعدد گھر بھی تھے۔

ویلنٹینو کو اپنے پگ نسل کے کتوں سے بے حد لگاؤ تھا اور ایک وقت میں ان کے پاس چھ پگ کتے تھے۔ 2008 کی ڈاکیومنٹری “ویلنٹینو: دی لاسٹ ایمپرر” میں انہوں نے کہا تھا:“مجھے کلیکشن کی پرواہ نہیں، میرے کتے زیادہ اہم ہیں۔”

1998 میں ویلنٹینو نے اپنی کمپنی تقریباً 30 کروڑ ڈالر میں ایک اطالوی گروپ کو فروخت کی، تاہم وہ کام سے وابستہ رہے۔ 2008 میں، 45 برس سے زائد طویل کیریئر کے بعد، انہوں نے فیشن انڈسٹری سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پیرس کے میوزی روداں میں ایک شاندار فیشن شو منعقد کیا گیا، جس کے اختتام پر ماڈلز نے ایک جیسے “ویلنٹینو ریڈ” گاؤنز پہن رکھے تھے۔

فیشن دنیا کے لیے ویلنٹینو کی وفات کو ایک سنہری دور کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اپنی زندگی پر بننے والی ڈاکیومنٹری میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ناقابلِ بدل ہیں، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا:
“میرے بعد، سب کچھ بہہ جائے گا۔”

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *