نیویارک: اقوام متحدہ میں نئے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کا عمل منگل کو باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ رکن ممالک کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ یکم جنوری 2027 سے شروع ہونے والی مدت کے لیے موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریش کی جگہ لینے کے لیے اپنے امیدواروں کے نامزدگیاں بھیجیں۔
انتونیو گوترس نے یکم جنوری 2022 کو اپنی دوسری پانچ سالہ مدت کا آغاز کیا تھا، جو 31 دسمبر 2026 کو پوری ہو جائے گی۔ وہ پہلی بار جنوری 2017 سے دسمبر 2021 تک اس عہدے پر فائز رہے تھے۔
193 رکن ممالک کو بھیجے گئے مشترکہ خط میں کہا گیا ہے کہ 80 سالہ یہ عالمی تنظیم ایسے امیدواروں کی تلاش میں ہے جن کے پاس بین الاقوامی تعلقات، سفارت کاری، اور لسانی مہارتوں میں وسیع تجربہ ہو۔ خط میں سیکرٹری جنرل کے عہدے کو “انتہائی اہمیت کا حامل” قرار دیا گیا ہے، جس کے لیے “کارکردگی، اہلیت اور دیانتداری کے اعلیٰ ترین معیارات” کی ضرورت ہے۔
خط میں خواتین کی نامزدگی پر سختی سے غور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی قیادت نے “افسوس کے ساتھ” کہا کہ اب تک کسی خاتون کو بھی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہونے کا اعزاز حاصل نہیں ہوا۔
کچھ ابتدائی نام جو زیر غور ہیں ان میں چلی کی سابق صدر میشل بیچلیٹ، ارجنٹائن کے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی، اور کوسٹا ریکا کی ریبیکا گرینسپین (جو اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی کے ادارے – UNCTAD – کی سربراہی کر رہی ہیں) شامل ہیں۔
امیدواروں کو ایک یا ایک سے زیادہ ریاستوں کی طرف سے پیش کیا جانا چاہیے اور انہیں اپنے وژن کا بیان اور فنڈنگ کے ذرائع جمع کرانے ہوں گے۔
سلامتی کونسل کے ارکان جولائی کے آخر تک باضابطہ انتخاب کا عمل شروع کریں گے۔ ویٹو پاور رکھنے والے پانچ مستقل ارکان (امریکہ، چین، روس، برطانیہ اور فرانس) امیدوار کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
سلامتی کونسل کی سفارش کے بعد، جنرل اسمبلی نئے سیکرٹری جنرل کو پانچ سالہ مدت کے لیے منتخب کرے گی، جو یکم جنوری 2027 سے شروع ہوگی اور ایک بار قابل تجدید ہوگی۔
