ویب ڈیسک: سیّدوجاہت حسین
غزہ کی پٹی میں ہونے والی شدید بارشوں نے سیلابی صورتحال پیدا کر دی، جس سے ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کے خیمے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ یہ بے گھر افراد کسی مضبوط پناہ گاہ کے بغیر سردیوں کے سخت طوفانوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔
غزہ کی تقریباً دو ملین آبادی کی ایک بڑی اکثریت کو حماس کے اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیل کی دو سالہ زمینی اور فضائی کارروائی کے دوران اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا، اور اب بہت سے لوگ خیموں اور دیگر عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔
وسط اکتوبر سے جنگ بندی بڑے پیمانے پر برقرار ہے، لیکن تنازع نے غزہ کے گنجان آباد علاقوں کی زیادہ تر بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کے لیے انتہائی سخت حالاتِ زندگی ہیں۔
اقوام متحدہ نے اس حوالےسے کہا کہ اگرچہ وہ غزہ میں سردیوں کا سامان پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے، لیکن اسرائیل کی جانب سے امدادی گروپوں پر لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے انکلیو میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد محدود ہے۔
غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے تحت کیے گئے وعدے کے مطابق امداد کی اتنی مقدار اندر نہیں آنے دے رہا ہے۔ امدادی ایجنسیاں کہتی ہیں کہ اسرائیل کئی ضروری اشیاء کو داخل ہونے سے روک رہا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کر رہا ہے اور امداد کو نہیں روکتا۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ یا تو امدادی ایجنسیاں تقسیم میں غیر موثر ہیں یا حماس کو چوری سے روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ حماس نے امداد چوری کرنے کے الزام کی تردید کی ہے۔غزہ کی پٹی میں منگل کو ہونے والی شدید بارشوں نے سیلابی صورتحال پیدا کر دی، جس سے ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کے خیمے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ یہ بے گھر افراد کسی مضبوط پناہ گاہ کے بغیر سردیوں کے سخت طوفانوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔
غزہ کی تقریباً دو ملین آبادی کی ایک بڑی اکثریت کو حماس کے اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیل کی دو سالہ زمینی اور فضائی کارروائی کے دوران اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا، اور اب بہت سے لوگ خیموں اور دیگر عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔
وسط اکتوبر سے جنگ بندی بڑے پیمانے پر برقرار ہے، لیکن تنازع نے غزہ کے گنجان آباد علاقوں کی زیادہ تر بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کے لیے انتہائی سخت حالاتِ زندگی ہیں۔
اقوام متحدہ نے اس حوالےسے کہا کہ اگرچہ وہ غزہ میں سردیوں کا سامان پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے، لیکن اسرائیل کی جانب سے امدادی گروپوں پر لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے انکلیو میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد محدود ہے۔
غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے تحت کیے گئے وعدے کے مطابق امداد کی اتنی مقدار اندر نہیں آنے دے رہا ہے۔ امدادی ایجنسیاں کہتی ہیں کہ اسرائیل کئی ضروری اشیاء کو داخل ہونے سے روک رہا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کر رہا ہے اور امداد کو نہیں روکتا۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ یا تو امدادی ایجنسیاں تقسیم میں غیر موثر ہیں یا حماس کو چوری سے روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ حماس نے امداد چوری کرنے کے الزام کی تردید کی ہے۔
