پیرس (ویب ڈیسک): گزشتہ ہفتے کے آخر میں مہنگائی اور زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران شدید پرتشدد واقعات اور لوٹ مار کے بعد فرانسیسی حکومت نے ملک بھر میں امن و امان بح رکھنے کے لیے 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیرِ داخلہ لورین نونیز (Laurent Nuñez) نے جمعہ کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز میں انسدادِ دہشت گردی اور یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے استعمال ہونے والے ایلیٹ دستے بھی شامل ہوں گے، کیونکہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق “انتہا پسند بائیں بازو” (Ultra-left) کے گروپس کی جانب سے تشدد پھیلانے کی کال دی گئی ہے۔
صدر ایمانوئل میکرون اور ان کی حکومت کو آئندہ برس بہار میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے چھ ماہ قبل اس بحران پر قابو پانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے وسیع پیمانے پر فسادات پر سے ان کا کنٹرول ختم ہو گیا تھا، تاہم اب ریوٹرز اور لوٹ مار کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
فرانس کے علاوہ اٹلی (میلان، روم، تورین)، آسٹریا (ویانا)، اسپین ، پرتگال، آئرلینڈ اور البانیا میں بھی عوام مہنگائی، پبلک سروسز میں کمی اور رہائشی اخراجات کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
فرانس کے کئی شہروں میں مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے یا ان کے روٹس تبدیل کیے گئے ہیں۔ یونینز اور اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کے اس اقدام کو “جمہوریت پر حملہ” قرار دیا ہے جبکہ دوسری جانب اورلیں (Orléans) میں دائیں بازو کی رہنما مارین لے پین کی پارٹی کا کانگریس بھی جاری ہے جس پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔





