لندن: اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے عام شہریوں کے قتلِ عام کا پردہ چاک کرنے والی چونکا دینے والی نئی دستاویزی فلم ‘نازا’ (NAZA) برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ (The Guardian) کی ویب سائٹ پر بالکل مفت اسٹریم کے لیے دستیاب ہوگی۔
اسرائیلی فلم سازوں یوال ابراہام (Yuval Abraham) اور ریچل سزور (Rachel Szor) کی تیار کردہ اس فلم میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کے 24 وہسل بلورز (Whistleblowers) کے سنسنی خیز انٹرویوز شامل ہیں، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اپنے ہی فوجی اقدامات کی حقیقت دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔
فلم کا نام ‘نازا’ (NAZA) اسرائیلی انٹیلی جنس کی اس مخصوص زبان سے لیا گیا ہے جو کسی بھی ہوائی حملے میں متوقع طور پر ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
فلم کو رواں ماہ کے آغاز میں ‘وینس فلم فیسٹیول’ (Venice Film Festival) میں زبردست پذیرائی ملی اور ناظرین نے مسلسل 25 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی۔ دوسری جانب، اس دستاویزی فلم سے برہم اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو نے اپنے فوجیوں کی مبینہ بدنامی کرنے والے شہریوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے اور ان پر بھاری جرمانے عائد کرنے کے لیے نئی قانون سازی لانے کا اعلان کیا ہے۔
گارڈین کے انویسٹی گیشن رپورٹر اور فلم کے پروڈیوسر ہیری ڈیوس کے مطابق، آزاد صحافت کے فروغ کے لیے یہ اہم ترین تاریخی دستاویزی فلم سینما گھروں کی نمائش کے بعد ویب سائٹ پر دنیا بھر کے ناظرین کے لیے بغیر کسی معاوضے کے دستیاب کی جائے گی۔





