نیویارک: نیویارک کے میئر زوہران کوامے ممدانی اور ڈپٹی میئر جولی سو نے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران صارفین، کم اجرت والے ملازمین اور تارکین وطن کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک منفرد “NYC ورلڈ کپ ریفری کٹ” (Referee Kit) لانچ کر دی ہے۔ فٹ بال کے مشہور “پیلے” (Yellow) اور “سرخ” (Red) کارڈز سے متاثر ہو کر تیار کی گئی اس معلوماتی کٹ پر انتظامیہ 1 لاکھ 30 ہزار ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہی ہے، جس کا مقصد ورلڈ کپ کے دوران ہونے والے ممکنہ استحصال کو روکنا ہے۔
میئر زہران ممدانی نے اس اقدام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ دنیا بھر کے لوگوں کو جوڑنے کا بہترین موقع ہے، لیکن ہم کسی کو بھی اس ٹورنامنٹ کی آڑ میں دھوکہ دہی، لیبر قوانین کی خلاف ورزی یا تارکین وطن کے استحصال کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ کارڈز اردو سمیت 11 مختلف زبانوں میں ترجمہ کیے گئے ہیں اور انہیں پبلک اسکریننگز، لائبریریوں اور کاروباری مراکز میں تقسیم کیا جائے گا۔

پیلا کارڈ (Yellow Card): اس کارڈ پر امیگریشن کے لیے قانونی مدد کی ہاٹ لائن، گھریلو یا صنفی تشدد کے خلاف نیویارک کی ‘ہوپ ہاٹ لائن’، اور مزدوری کے قوانین کی خلاف ورزی کی رپورٹ کے لیے 311 کا نمبر درج ہے۔
سرخ کارڈ (Red Card): یہ کارڈ خاص طور پر تارکین وطن کے لیے ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر کام کی جگہ، گھر یا کسی عوامی مقام پر امیگریشن حکام (ICE) سے سامنا ہو تو ان کے پاس کیا قانونی حقوق حاصل ہیں۔
حکام کے مطابق ورلڈ کپ کے پسِ پردہ ہزاروں ٹیکسی ڈرائیورز، ہوٹل ورکرز اور اسٹیڈیم کا عملہ کام کر رہا ہے جن میں بڑی تعداد تارکین وطن کی ہے۔ کمشنر سیلونی سیٹھی نے خبردار کیا کہ ایسے بڑے ایونٹس میں انسانی اسمگلنگ (Human Trafficking) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس کی روک تھام کے لیے نیویارک کی 24 گھنٹے فعال ‘ہوپ ہاٹ لائن’ (HOPE Hotline) پر مفت اور خفیہ مدد حاصل کی جا سکتی ہے، چاہے کالر کی امیگریشن کی حیثیت کچھ بھی ہو۔
میئر انتظامیہ 15 جولائی تک پانچوں اضلاع میں ایک خصوصی مہم چلا رہی ہے تاکہ 20,000 سے زائد ورکرز تک ان کے حقوق کی معلومات پہنچائی جا سکیں۔
