Iran Accuses US of Denying Key Staff Visas Ahead of FIFA World Cup 2026

ایرانی اسکواڈ کے متعدد کھلاڑی لازمی فوجی سروس کے تحت اس فورس میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

Editor News

واشنگٹن/انقرہ: ایران نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ورلڈ کپ کے لیے ایرانی نیشنل فٹ بال ٹیم کے بیک روم اسٹاف کے “انتہائی اہم” ارکان کو ویزے دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ الزام واشنگٹن کی جانب سے اس تصدیق کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایرانی کھلاڑیوں کو امریکہ آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق، جمعہ کے روز کھلاڑیوں اور “ضروری سپورٹ اسٹاف” کو ویزے جاری کیے گئے ہیں، جو کہ 15 جون کو لاس اینجلس میں ایران کے پہلے میچ سے 10 دن قبل کی تاریخ ہے۔ تاہم، امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کو اس نظام کا غلط فائدہ اٹھانے اور جھوٹے بہانوں کے تحت “دہشت گردوں کو امریکہ میں چھپ کر داخل کرنے” کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب، ترکیہ میں قائم ایرانی سفارت خانے نے امریکہ پر “کھیل میں سیاسی طور پر متعصبانہ مداخلت” کا الزام لگایا ہے۔ ایرانی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ امریکہ نے مینجمنٹ، ایگزیکٹو اسٹاف اور تکنیکی مشیروں کے ایک بڑے حصے کو ویزے دینے سے انکار کیا ہے۔ ایرانی بیان میں امریکی اعلان کو “حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش” (Whitewash) قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ نے ایرانی فٹ بال ٹیم کے خلاف امتیازی سلوک کو اب اعلیٰ ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ ایرانی حکام نے فٹ بال کی عالمی گورننگ باڈی ‘فیفا’ (FIFA) سے اس معاملے میں فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، ویزے سے محروم رہنے والوں میں ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر اور ان کے نائب بھی شامل ہیں۔

جنگ کے سائے میں تاریخی ٹورنامنٹ:
فیفا ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی مشترکہ طور پر امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کر رہے ہیں، جس کا آغاز 11 جون سے ہو رہا ہے۔ ایران نے مارچ 2025 میں اپنے کوالیفائنگ گروپ میں ٹاپ کر کے ورلڈ کپ میں جگہ بنائی تھی، جس کے تقریباً ایک سال بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ فٹ بال کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ کوئی میزبان ملک کسی ایسے ملک کی ٹیم کا استقبال کرے گا جس کے ساتھ وہ برسرِپیکار ہے۔ حال ہی میں مئی کے آخر میں، ایران نے اپنی ٹیم کا ٹریننگ کیمپ بھی ٹوسان (ایریزونا) سے میکسیکو منتقل کر دیا تھا۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے قانون سازوں کو بتایا تھا کہ ایرانی وفد میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے وابستہ کسی بھی فرد کو شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ واضح رہے کہ ایرانی اسکواڈ کے متعدد کھلاڑی لازمی فوجی سروس کے تحت اس فورس میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ایران کو ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں اپنے دیگر دو میچز کیلی فورنیا میں بیلجیم اور سیئٹل میں مصر کے خلاف کھیلنے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *